اگست کی چودہ تاریخ کی ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ باہر گلیوں میں بچوں کے نعروں، قومی ترانوں اور “پاکستان زندہ باد” کی آوازوں سے فضا گونج رہی تھی۔ کمرے میں ایک چھوٹا سا سبز ہلالی پرچم لٹک رہا تھا جس کے ساتھ کچھ رنگ برنگے غبارے بھی بندھے تھے۔
نو سالہ علی ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پرچم پکڑے خوشی سے اچھل رہا تھا۔ اس نے اپنے بابا کا ہاتھ کھینچا اور چہکتے ہوئے بولا:
“بابا! جلدی کریں ناں، سب بچے باہر سڑک پر نکل آئے ہیں، ترنگا اٹھائے دوڑ رہے ہیں۔ آپ مجھے بھی باہر لے کر چلیں نا!”
بابا (احمد) نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے مسکرانے کی کوشش کی، لیکن ان کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ انہوں نے علی کو اپنے پاس بٹھایا اور اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“علی میرے بیٹے! باہر جانے سے پہلے ذرا یہ تو سمجھو کہ یہ دن صرف ہلا گلا کرنے کا نہیں ہے۔ یہ دن بہت بڑا دن ہے، یہ ہماری آزادی کا دن ہے۔”
علی نے حیرت سے پوچھا: “آزادی کا دن؟ اس کا کیا مطلب ہے بابا؟ کیا ہم پہلے قیدی تھے؟”
اتنے میں علی کی امی (فاطمہ) ہاتھ میں چائے کا ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان کی آنکھیں پہلے ہی سرخ تھیں جیسے وہ اندر ہی اندر کچھ سوچ کر روئی ہوں۔ انہوں نے ٹرے میز پر رکھی اور علی کے پاس بیٹھ گئیں۔ ان کا لہجہ دھیما اور بھرا ہوا تھا۔
“بیٹا! تم قید کی بات کرتے ہو… تم نہیں جانتے کہ اس آزادی کی قیمت چکانے کے لیے ہمارے بڑوں نے کیا کچھ نہیں سہا،” امی کی آواز بھرا گئی اور ان کا گلا رندھ گیا۔
علی نے حیران ہو کر ماں کو دیکھا: “امی! آپ رو کیوں رہی ہیں؟”
احمد نے اپنی بیوی کے شانے پر ہاتھ رکھا، خود بھی گہری سانس لی اور علی کو مخاطب کرتے ہوئے بولے:
“بیٹا، جب تمہارے دادا دادی اور پردادا اس خطے میں آ رہے تھے، تو یہ کوئی عام سفر نہیں تھا۔ یہ خون اور آنسوؤں کا دریا تھا۔ 1947 میں جب ہندوستان تقسیم ہوا، تو لاکھوں انسانوں کو اپنا سب کچھ چھوڑنا پڑا۔ گھر، زمینیں، دکانیں، اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی لاشیں…”
احمد کی آواز کانپنے لگی۔ انہوں نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا:
“تمہاری دادی ہمیشہ بتایا کرتی تھیں کہ جب وہ قافلے میں آ رہے تھے، تو راستے میں کس طرح دشمنوں نے حملہ کیا۔ ان کے چھوٹے بھائی کو، جو صرف دو سال کا تھا، بھوک اور پیاس سے تڑپتے ہوئے راستے ہی میں چھوڑنا پڑا۔ دادی جب بھی وہ وقت یاد کرتی تھیں، ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی۔ انہوں نے اس مٹی پر قدم رکھنے سے پہلے اپنوں کا لہو دیکھا تھا۔”
فاطمہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر علی کے ہاتھ پر گر گئے۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا:
“علی! یہ جھنڈا جو تم آج ہاتھ میں پکڑے خوش ہو رہے ہو، یہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے۔ یہ لاکھوں بیٹیوں کی عزتوں، ہزاروں ماؤں کی گود اجڑنے اور لاکھوں شہیدوں کے خون کا صلہ ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں یہ آزاد وطن لے کر دیا ہے تاکہ ہم آزادی کی سانس لے سکیں۔”
کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ صرف باہر سے آتی ہوئی ترانوں کی مدہم آواز سنائی دے رہی تھی۔ علی چھوٹا ضرور تھا، لیکن ماں اور باپ کی بھرائی ہوئی آوازوں، ان کے آنسوؤں اور درد میں ڈوبے ہوئے لہجے نے اس کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا چھوٹا سا پرچم کتنا بھاری اور قیمتی ہے۔
علی کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے آگے بڑھ کر اپنی امی اور بابا کو گلے سے لگا لیا اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
“امی، بابا! مت روئیں… میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس وطن کی حفاظت کروں گا اور اس کی قدر کروں گا جس کے لیے میرے دادا دادی نے اتنی بڑی قربانی دی تھی۔”
احمد اور فاطمہ نے اپنے لعل کو اور زور سے گلے سے لگا لیا۔ باہر چودہ اگست کا سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو چکا تھا، جو اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ قربانیوں کی یہ داستانیں کبھی بھلائی نہیں جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔















