ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ اقبال کی عظیم شخصیت اور ان کی گراں قدر خدمات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ بیسویں صدی کے عظیم، نامور شاعر، مفکر اور فلسفی ہیں اور مسلمانوں کے لئے دو قومی نظریہ کو پیش کرنے والی اہم ترین شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی فکرِ خودی کے ذریعے مسلمانوں کوخوابِ غفلت سے جگایا۔ ان کے خاندانی ماحول میں مذہبی روح اور دینی جذبہ بہت گہرا تھا۔ ان کے والد شیخ نور محمد صوفی مزاج بزرگ تھے اور والدہ بھی نہایت نیک اور دیندار خاتون تھیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم میں مذہبی تعلیمات کا بڑا حصہ شامل ہے۔
علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کے منفی پہلوؤں پر تنقید کی۔ وہ ملت اسلامیہ کی فکری و تہذیبی تجدید کے علمبردار بن کر سامنے آئے۔ اس دور میں جب مسلمان زوال اور کمزوریوں کا شکار تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو حوصلہ دیا اور ان میں یہ یقین پیدا کیا کہ اگر وہ اپنی خودی کو پہچانیں اور اپنے ایمان و عمل کو مضبوط کریں تو دنیا میں دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ اسلام کے روشن مستقبل کے مبشر بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ نظریہ پاکستان دراصل اسلام ہے اور اسلام کا احیاء خلافت راشدہ کے طریقے پر ہونا چاہئے۔ قائد اعظم نے بھی اسی نظریے کی سیاسی راہنمائی کی۔ جلسے و جلوسوں میں بھی اسی مقصد کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ مساجد اور منبروں سے بھی یہ ہی دعائیں مانگی گئیں کہ یا اللہ! ہم ایک ایسی سرزمین چاہتے ہیں جہاں قرآن و سنت پر عمل کر سکیں اور تب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے پاکستان جیسی خوبصورت سرزمین سے نوازا۔
علامہ اقبال نے فرمایا کہ مسلمان اگر زندہ ہے تو ایک آئین کی وجہ سے ہے اور وہ آئین ہے قرآن ۔ ملت کاجسد صرف قرآن کی وجہ سے زندہ ہے۔علامہ اقبال ایک آفاقی شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کو نہ صرف بر صغیر پاک و ہند میں بلکہ افغانستان، ترکی، ایران، شام اور دیگر ممالک میں بھی ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر مانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری ہمارے لئے اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی شاعری میں عشقِ حقیقی کا رنگ نمایاں ہے اور ان کے اشعار میں توحید، رسالت اور اسلامی تہذیب کا عنصر جا بجا جا ملتا ہے ۔علامہ اقبال کی دعوت خدا سے سچے عشق کی دعوت ہے۔ ایسا عشق جو صرف جذبات تک محدود نہ ہو بلکہ زندگی کا ہر رنگ اس میں ڈھل جائے۔
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
اولاد بھی، املاک بھی، جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا، نعرہ تکبیر بھی فتنہ
علامہ اقبال کی تعلیمات صرف رسمی یاد تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ان کی گراں قدر خدمات اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم ان کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور ان کے پیغام کو اپنے کردار و عمل میں ڈھالیں۔















