بھارت میں یکساں سول کوڈ!

ہمارے معاشرے میں “برابری” ایک ایسا خوبصورت لفظ ہے جسے سن کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے، مگر جب اس کی عملی شکل سامنے آتی ہے تو اکثر یہ باغ کسی اور ہی سمت نکل جاتا ہے۔ حالیہ دنوں “یکساں سول کوڈ” کا بڑا چرچا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اب سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا—نہ کوئی مذہبی فرق، نہ کوئی الگ روایت۔ سننے میں تو یوں لگتا ہے جیسے اچانک دنیا سے تمام ناانصافیاں ختم ہو جائیں گی اور ہر طرف انصاف کی بہار آ جائے گی۔

لیکن ذرا ٹھہریے! یہ سب کچھ اتنا سادہ بھی نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

یکساں سول کوڈ کے حامی کہتے ہیں کہ اس سے سب شہری برابر ہو جائیں گے۔ اب شادی، طلاق، وراثت جیسے معاملات میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں ہوگا۔ گویا ایک ایسا جادوئی فارمولا دریافت ہو گیا ہے جو صدیوں کے اختلافات کو پلک جھپکتے میں ختم کر دے گا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر تو اسے صرف ایک ملک تک محدود رکھنا ناانصافی ہوگی—اسے تو دنیا بھر میں نافذ کر دینا چاہیے!

مگر ناقدین بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ “یکساں” دراصل اتنا یکساں بھی نہیں، بلکہ ایک خاص رنگ لیے ہوئے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک ہی قانون کے نیچے آئیں گے، تو لازمی طور پر کسی ایک کی روایات کو ترجیح ملے گی۔ اور وہ “ایک” کون ہوگا، یہ سمجھنے کے لیے زیادہ عقل کی ضرورت نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا تو کیا واقعی سب خوش ہوں گے؟ فرض کریں کہ ایک ہی سائز کا جوتا پورے شہر کے لوگوں کو دے دیا جائے۔ اعلان ہو: “اب سب برابر ہیں، سب ایک ہی جوتا پہنیں گے!” اب جس کا پاؤں چھوٹا ہے وہ اس میں ڈوب جائے گا، اور جس کا بڑا ہے وہ آدھا باہر نکل آئے گا۔ مگر سرکاری اعلان یہی ہوگا کہ “دیکھیں، ہم نے تو سب کو ایک جیسا بنا دیا!”

اسی طرح جب مختلف مذہبی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگوں پر ایک ہی قانون لاگو کیا جائے گا، تو کچھ لوگ خود کو اس میں فِٹ پائیں گے اور کچھ نہیں۔ مگر چونکہ نام “یکساں” ہے، اس لیے شکایت کرنے والا خود ہی مشکوک ٹھہرے گا—کہ بھائی، تمہیں برابری سے کیا مسئلہ ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں عوام سے زیادہ سیاستدان پُرجوش نظر آتے ہیں۔ عوام تو ابھی تک یہ سمجھنے میں مصروف ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے، جبکہ سیاسی بیانات میں سب کچھ پہلے ہی “تاریخی کامیابی” قرار دیا جا چکا ہے۔ گویا امتحان سے پہلے ہی رزلٹ آ گیا ہو—اور سب پاس بھی ہو گئے!

آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے: کیا یکساں سول کوڈ واقعی انصاف لائے گا، یا صرف “یکسانیت” کے نام پر ایک نئی بحث کو جنم دے گا؟ شاید اصل مسئلہ قانون کا نہیں، بلکہ نیت اور نفاذ کا ہے۔ اگر نیت واقعی انصاف کی ہو، تو مختلف قوانین کے ساتھ بھی انصاف ممکن ہے۔ اور اگر نیت میں کھوٹ ہو، تو یکساں قانون بھی صرف ایک خوبصورت نعرہ بن کر رہ جائے گا۔

لہٰذا، فی الحال ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ “سب برابر ہیں”… بس کچھ لوگ اس برابری کو سمجھنے میں ابھی تھوڑا وقت لے رہے ہیں!

مزید پڑھیں

Scroll to Top