نصف رمضان ختم : سندھ حکومت اور میئر کراچی گل پلازا متاثرین کو متبادل فراہم کرانے میں ناکام

gul-palaza

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور میئر کراچی 15رمضان گزرنے کے باوجود تباہ حال گل پلازہ کے دکانداروں کو متبادل رمضان بازار فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

1200سو عارضی کیبن فراہم کرنے کے بجائے صرف300 شامیانے (ٹینٹ) کا سیٹ ایپ لگاکر گل پلازہ کے دکانداروں سے و عدے خلافی کی ہے جبکہ ہر دکان میں صرف ایک ٹیبل اور کرسی دی گئی ہے۔ تاجر رہنما نے عارضی رمضان بازار (بارہ دری ) پولو گراؤنڈ کے بجائے ایکسپو سینٹر کراچی میں لگا نے کا عندیہ دیا ہے۔

پولو گراؤنڈ کے اطراف میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری،میئر کراچی سمیت پوری کی قیادت کی تصاویر پر مشتمل ماڈل دکان بھی تیار کیا گیا ہے۔

کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ سند ھ حکومت اور میئر کراچی نے ہم تاجر برادری اور آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کے دکانداروں کیلئے پی آئی ڈی سی چوک کے قریب گورنر ہاو¿س سے متصل باغ جناح کی (بارہ دری ) پولو گراو¿نڈ میں متبادل رمضان بازار کے لیے 1200سو عارضی کیبن جبکہ پہلے مرحلے میں 300 عارضی کیبن بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھاتاہم حکومت سندھ نے جو ہم سے وعدہ کیا تھا اس وعدے کی تکمیل کے بجائے انہوں نے متاثرین گل پلازہ کیلئے300سو شامیانے یعنی(ٹینٹ) لگا کر دے دیے ہیں تو کون تاجر اپنے لاکھوں روپے کا سامان ان ٹینٹوں میں رکھے گا پہلے ہی گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے سینکڑوں گھروں کے چولہے بجھا دیے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کے وعدے خلافی کی وجہ سے تاجروں نے پولو گراؤنڈ (بارہ دری) میں متبادل رمضان بازار تاحال شروع نہیں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میری اس حوالے سے معروف تاجر رہنما اور بورڈ آف انوسٹمنٹ سندھ کے سابق چیئرمین زبیر موتی والا سے گفتگو ہوئی ہے انہوں نے عارضی رمضان بازار (بارہ دری ) پولو گراؤنڈ کے بجائے کراچی چیمپبر آف کامرس کے تعاون سے متبادل عارضی بازار ایکسپو سینٹر کراچی میں لگانے کا عندیہ دیا ہے،لیکن 15 روزے تو گزر گئے ہیں اب دیکھتے ہیں کہ کب تک متاثرین گل پلازہ ایکسپو سینٹر میں اپنی عارضی دوکان لگانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ہم اس مشکل وقت میں اپنے تاجر بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گے۔

اس حوالے سے آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کے دکانداروں کیلئے باغ جناح (بارہ دری ) پولو گراؤنڈ میں متبادل رمضان بازارحکومت سندھ کی جانب سے بظاہر تو ایک اچھا اقدام تھا لیکن اس کی تاخیر بتا رہی ہے کہ یہ محض ایک دکھاوے کی بات تھی اور جب بھی کسی حکومتی غفلت پر شور مچتا ہے تو حکومت اپنے پینترے بدلتی ہے اور اپنا اچھا پہلو اور اچھا چہرا دیکھانے کی کوشش کرتی ہے اسے میں ایک یہ بھی تھا لیکن جب شور تھم جاتا ہے اور وہ سانحہ یا وہ واقعہ جس پر حکومت زیر تنقید ہوتی ہے وہ کسی اور واقعے کی زد میں آتا ہے اور اس کا شور کم ہو جاتا ہے تو پھر دیکھا یہی گیا ہے کہ پھر حکومت اپنے پرانے وطیرہ پہ آ جاتی ہیں اور پرانی چیزوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے نصیب میں ہی نہیں ہے کہ وہ کراچی کے عوام کی خدمت کرسکے یا ان کے ہاتھوں کسی کو فیض پہنچ سکیں اتنے بڑے بڑے واقعات ہوئے بے روزگاری تجاویزات کے نام پرکتنی دوکانیں سیل کردی گئیں ہیں ٹھلے کرش کردیے گئے سامان پلٹ دیا گیا یعنی ان گنت لوگ کراچی میں کچھ تو حالات کی خرابی، معاشی بحران کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار تھے اور کچھ مختلف آپریشنز کے نام پہ بے روزگار کر لیے گئے اور بے شمار ایسے لوگ جو حادثات کا شکار ہو کر بے روزگار ہوئے ہیں وہ شہر جو کبھی معاشی حب کہلاتا تھا اب کراچی بےروزگاروں کا سب سے بڑا شہر ہے پاکستان میں کراچی سے بڑا بیروزگاروں کا کوئی دوسرا شہر نہیں ہے اب سندھ حکومت نے جس طرح کی بیڈ گورننس شو کی ہے اور جس طرح سے سندھ حکومت کے ادارے عوام اور تاجروں کے ساتھ سلوک کررہے ہیں اس کے نتیجے میں آج معاشی حب بے روزگاروں کا شہر بن گیا ہے۔اس حوالے سے گل پلازہ منجمینٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا سے بھی معتدد بار موقف جاننے کے لیے رابط کیا گیا تاہم ان سے رابط نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ18فروری 2026کو میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سانحہ گل پلازہ سے متاثرہ تاجر برادری کی فوری بحالی کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے پولو گراو¿نڈ (بارہ دری) میں متبادل ‘رمضان بازار’ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور متاثرہ دکانداروں کو 1200 اسٹالز بغیر کسی معاوضے کے فراہم کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔اس کے بعد 23 فروری ، 2026 کو میئر کراچی کی جانب سے کہا گیا کہ متاثرین گل پلازہ کیلئے بارہ دری میں 300 دکانوں کا بازار سجا دیا گیا ہے تاہم 15رمضان المبارک گزرنے کے باوجود تباہ حال گل پلازہ کے دکانداروں کیلئے سندھ حکومت اور میئر کراچی نے متبادل رمضان بازار تاحال شروع نہیں کر سکی ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top