جماعت اسلامی کا تاریخی جینے دو کراچی مارچ: حافظ نعیم کا سندھ اسمبلی پر دھرنے کا اعلان

hafiz

کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم وزیر اعلیٰ اور قابض میئر سے کہتے ہیں کہ وہ خود عوام کی جان چھوڑیں گے یا پھر جنریشن زی کے ہاتھوں بے دخل ہوں گے، اب قبضے کا نظام نہیں چلے گا، 14فروری کو ہم سندھ اسمبلی پر ایک دھرنا دیں گے اور اہل کراچی کا حق اور اختیار لے کر اٹھیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پہلے کے دھرنے میں ہم سے جو وعدہ کیے تھے وہ پورے نہیں کیے،یہ بات انہوں نے سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف اتوار کو شارع فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ”جینے دو کراچی مارچ“ میں شریک لاکھوں مردو و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ  سندھ سالٹ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن سمیت شہری ادارے با اختیار شہری حکومت کے حوالے کرنا ہوں گے،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کراچی پر نہ وفاق نہ صوبے کا قبضہ چلے گا اس شہر کو آئین کے تحت با اختیار شہری حکومت دی جائے جس میں سارے ادارے اس کے ماتحت ہوں اور اس شہری حکومت کو تمام مالی و انتظامی اختیارات ہوں،ملک کے عوام بادشاہی نظام اور شہزادوں کا راج نہیں چاہتے، پورے ملک میں تمام صوبوں کو بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خاندانوں، وراثت اور وصیت کے نام پر چلنے والی پارٹیاں ہیں اور ان کا جمہوریت سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں، ان غیر جمہوری اور غیر سیاسی قابض لوگوں کو اپنے سروں سے ہٹانا ہوگا،سانحہ گل پلازہ پر ہائی کورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے،آج تک زرداری اور بلاول گل پلازہ نہیں پہنچے، کراچی 42فیصد ٹیکس دیتا ہے،54فیصد ریونیو ایکسپورٹ کرتا ہے لیکن شہباز شریف بھی آج تک گل پلازہ نہیں آئے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ ہزاروں غیر قانونی تعمیرات اور عمارتیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مرضی کے بغیر آخر کس طرح بن گئی، یہ سارانظام اور سلسلہ زرداری تک جاتا ہے، ہم ان لوگوں سے بھی سوال کرتے ہیں کہ جنہوں نے سندھ سے سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس سسٹم کو تو اسلام آباد میں لے جا کر بیٹھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہرقائد کے لوگوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا کہ میئر جماعت اسلامی کا ہوگا حالات تبدیل ہو جائیں گے اور اس شہر کا نقشہ بدل جائے گا لوگوں کو لوگوں کو ان کا حق ملے گا اچھی ٹرانسپورٹ ملے گی اچھی سڑکیں ملیں گی، پانی بجلی کا نظام ٹھیک ہوگا لیکن ان کو یہ قبول نہیں تھا انہیں نعمت اللہ خان کا دور نہیں دہرانا انہیں چور اور ڈاکو چاہیے ہوتے ہیں جن کا سوئچ کھولو چل پڑتے ہیں بند کرو بند ہو جاتے ہیں اسی لیے سیٹیں بھی ان کو دے دیتے ہیں میئر شپ بھی ان کو دے دیتے ہیں لیکن اب یہ نہیں چلے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ لاکھوں افراد کا مطالبہ ہے کہ با اختیار شہری حکومت کا نظام دیا جائے، ٹاؤن اور یوسی کے نمائندے کو پانی و سیوریج اور گٹر کے ڈھکن لگانے کا اختیار ہو، انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ آج اگر سندھ اسمبلی کی طرف مارچ اور طویل دھرنے کی کال دی جائے تو کیا آپ تیار ہیں تو لاکھوں افراد نے ہاتھ اُٹھا کر ان کی تائید کی

اس موقع پر جینے دو کراچی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ آج شارع فیصل پر لاکھوں مردو خواتین اعلان کرتے ہیں کہ اہل کراچی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اپنا حق لے کر رہیں گے، قابض میئر اہل کراچی کی جان چھوڑیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے، اہل کراچی کے ساتھ دھوکے بازی ختم کروا کر کراچی کو با اختیار شہری حکومت دو،اہل کراچی نے ثابت کیا ہے کہ وہ زندہ و بیدار ہیں اور آج لاکھوں مردو خواتین شاہراہ فیصل پر کراچی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔

 اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نا ئب امیر کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 18سالہ بدترین کارکردگی اور حکمرانی نے یہ حال کر دیا ہے کہ اب عوام جینے کا حق مانگتے ہیں، آگ لگ جائے تو کم از کم بجھایا تو جا سکے، عوام پینے کا پانی مانگتے ہیں، سڑکیں، بجلی مانگتے ہیں، عوام کہتے ہیں کہ جو ٹیکس لیتے ہو وہ ہم کو پورا نہیں آدھا ہی لوٹا دو اور کراچی کو اور اہل کراچی کو مسائل سے نجات دلا دو، اہل کراچی اپنا مینڈیٹ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جن کو ہم نے ووٹ دیئے تھے ان کو ہی حکومت دو

جینے دو کراچی مارچ سےجماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،نائب امیر و سی ای او الخدمت کراچی نوید علی بیگ،کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر،جماعت اسلامی کراچی کے منارٹی ونگ صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی نے ادا کیے۔

جینے دو کراچی مارچ میں مردو خواتین، نوجوانوں، بزرگ، بچے، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، علماء کرام، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات، صحافی، مزدورو تاجروں سمیت مختلف طبقات اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے اہل کراچی کے حق اور مسائل کے حل کے لیے جوق در جوق شرکت کی۔

شارع فیصل پر ”جینے دو کراچی کو، نہ وفاق نہ صوبہ حل صرف با اختیار کراچی سٹی حکومت،وزیر اعلیٰ استعفیٰ دو، قابض میئر کرسی چھوڑو“کے نعروں سے گونج اُٹھی، مارچ کراچی کے مسائل اور ایشوز پر اہل کراچی کا ترجمان ثابت ہوا۔

مزید خبریں

Scroll to Top