شبِ معراج

اللہ تعالی بھی کتنا مہربان ہے کہ اپنے بندے کے لیے مہلت مقرر کرتا ہے، اس کی ایک نیکی پر بڑھاچڑھاکر اجر، نیکی کی صرف نیت کرنے پر ڈھیروں اجر دیتا یے،برائی کرنے کے پر ایک گناہ کاؤنٹ کرتا ہے ۔۔۔۔۔اور بندہ توبہ کرلے تو معاف بھی کردیتا ہے۔۔

مسلمان امت کے لیئے اللہ کی کرامات اور نبی ﷺکا امتی ہونا جس اعزاز کی بات ہے یہ کسی امت کے لیئے نہیں،وہ انبیاء جو پہلے آئے انکی عقیدت میں بھی کمی نہیں کرنا انکی کتابوں کی عظمت کا قائم رکھنا –
جو اُمت امین ہے اللہ کے احکامات کی۔۔تو ان کی ریاستوں میں ظلمت کی سیاہ رات ہونا وہاں کے حکام عہدے داران اور عوام سب کی بہت بڑی ناکامی ہے۔
وہ اُمت جس کے لیے نبی نے طائف کی وادی میں پتھر کھائے اس اُمت کی بنیاد میں اللہ کی محبت رکھی گئی ہے،دنیا کی محبت میں جس فرد نے بھی کام کیا وہ ناکام و نامراد ہوا ـ
تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔۔۔۔( سورہ الصف کی آیت کا ترجمہ ہے )
جب ایک شخص اللہ کو اپنا معبود اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول کہہ کر حلف اٹھاتا ہے تب وہ اسلام کے دائرے میں ایک ذمے دار اُمتی بن جاتا ہے پھر اسکی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ امانت میں کوئی خیانت نہ کرے کسی کا حق نہ مارے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجائے سچ بولے لگی لپٹی بات نہ کرے کسی کو لعنت ملامت نہ کرے ہر برے کام سے دور رہے اللہ کے نظام کی اقامت اسکی عین ذمے داری بن جاتی ہے جس کام کا بیڑا خود نبی ﷺ نے اٹھایا۔

شب معراج اسی کی اصطلاح ہے کہ معاشرے کی تمام شاخیں اللہ کی وحدانیت کے مطابق استوار کی جائیں اور اس حیثیت سے معاشرے کا ہر فرد اس کا ذمے دار ہے چاہے وہ فرد واحد ہو کوئ گروہ کوئی تنظیم کوئ لیڈر کوئی چپڑاسی کوئی بیوروکریٹ،فوجی جرنیل،کوئی سرکاری افسر چاہے وہ کوئی مولوی ہو یا کسی گھر کا سربراہ۔۔۔۔
ہر شخص کو اپنے معاشرتی مقام اور ذمہ داری کے مطابق ایمانداری سے کام کرنا چاہیے۔ چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر فرد کی سچائی اور دیانتداری معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی ایمانداری سے ہی معاشرہ مضبوط، منظم اور خوشحال بنتا ہے۔

شب معراج ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ صرف ایمان کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے اعمال کو بھی سدھارنا ضروری ہے تاکہ اللہ کے حضور پیش ہوتے وقت ہمارا چہرہ شرمندگی سے نہ ڈھکا ہو۔ یہ رات ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور نیکیوں کو بڑھانے کا موقع دیتی ہے تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور مغفرت کے لائق بن سکیں۔
مالک یوم دین کے سامنے بحیثیت اُمت محمدی ﷺ پیش ہوسکیں۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top