ایک سوال 

کراچی روشنیوں کا شہر ملک پاکستان کی جان وہ شہ رگ جس کے کٹ جانے سے سارا ملک مفلوج ہو جائے یا زیادہ وقت تک خود کو قائم نہ رکھ سکے کراچی اور اس کے رہنے والے ایک باپ کی طرح پورے ملک کو پال رہے ہیں لیکن جب اس باپ کے حقوق کی بات آتی ہے تو سب طرف خاموشی کا راج نظر اتا ہے اس کی خوبصورتی اور ترقی کو تو جیسے نظر ہی لگ گئی ہو شہر کراچی کے حالات دیکھ کردل خون کے آنسو روتا ہے ہر طرف بربادی اور تباہی کی تصویر نظر آتی ہے یہ شہر نہ جانے اس کی ویرانی سے کس کا مفاد جڑا ہے ہمارے تو دلوں میں بستا ہے اس کی ٹوٹی سڑکیں کھلے مین ہول بے ہنگم ٹریفک ہارن کی آوازیں سب سے ہمیں پیار ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ گیس کی لوڈ شیڈنگ اس کے ساتھ ساتھ پانی کا مسئلہ یہ سب پیچیدہ مسائل کے ساتھ بھی ہم خوش اور مطمئن بلکہ زندہ ہیں اس کو ہماری بے حسی کہہ لیں یا محبت پر ہم اس کے عادی ہو گئے ہیں بنیادی ضرورت کی ہر چیز پر قحط ٹوٹ پڑا ہے۔

ان حالات میں جینا بھی مشکل اور مرنا بھی محال پانی کے حصول نے تو نا کو ں چنے چبوا دیئے ہیں مالدار لوگوں کے لیے اس کا حصول قدر ےاسان ہے پر مڈل کلاس اور نچلے درجے کے لوگ اس ظلم کی چکی میں بدستور پس رہے ہیں ٹینکر مافیا کی منہ مانگی ڈیمانڈ اس پر ڈھٹائی اور طاقت کا مظاہرہ یہ ایک الگ ہی نظارہ پیش کرتے ہوئے نظر اتے ہیں اس شہر میں نل سے پانی نہیں ٹپکتا بلکہ صبر ٹپکتا ہے کبھی کبھا ر آنے والا پانی اب تو شاذو نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔

شہر کے گنجان علاقے میں بلال ہر صبح فجر کے بعد گلی کے موڑ پر کھڑا ہوتا یہی وہ جگہ تھی جہاں سرکاری وعدے ختم ہوتے اور ٹینکروں کی سلطنت شروع ہوتی خالی ڈرم اس کے لیے صرف لوہے کے برتن نہیں بلکہ یہ انتظار کی علامت تھے اس دن ٹینکر کچھ زیادہ ہی تیز رفتاری میں تھا جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی رفتار سے کسی کو سوال کرنے کی فرصت نہیں ملے گی ہر موڑ پر ایک موٹر سائیکل آئی ایک لمحہ ایک خوفناک شور اور پھر سڑک پر پھیلا ہوا پانی اور ایک بے جان جسم لوگ دوڑے کسی نے ایمبولنس کو فون کیا اور کسی نے بالٹی اٹھائی پیاس نے انسانیت کو دھکیل دیا بلال کی ماں بھی ہجوم میں تھی اس کی نظریں لاش پر نہیں بلکہ بہتے ہوئے پانی پر تھی اس کے ہونٹ ہلے مگر آواز لرزتی ہوئی نکلی یہ پانی ضائع نہ ہو جائے ڈرائیور نے گاڑی سے اترنے کے بجائے فون نکال کر بات کرنا شروع کر دی جیسے یہ کوئی معمول کی کاروائی ہو تھوڑی دیر میں پولیس بھی آگئی اور ایمبولنس بھی رسمی جملے کاغذی کاروائی اور فائل بند ایمبولنس میں لاش ڈالی گئی۔

یہاں ہر دن کی یہی کہانی ہے اور روز کا تماشہ کتنی قیمتی جانیں جن مقدر موت بنی اس جوان کا زمین پر پڑا خون بہتے ہوئے پانی میں شامل ہو گیا بلال اس سڑک کو دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا یہاں پانی بہہ جانا بھی برداشت ہے انسان کا مرجانا بھی برداشت ہے بس جو چیز ناقابل برداشت ہے وہ سوال ہے اور سوال یہاں کوئی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top