کتب بینی

تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیاں دسمبر کے آخری عشرے میں ہوتی ہیں ــ جس کا انتظار بچے بڑی بے چینی سے کرتے ہیں ویسے تو موسم گرما کی تعطیلات کا بھی بچے انتظار کرتے ہیں لیکن سرد موسم میں صبح سویرے تیار ہوکر اسکول کالج جانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے ،ہم خود اس دور سے گزر چکے ہیں اس لئے ان معصوم بچوں کا احساس بخوبی کر سکتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان تعطیلات میں صرف رضائی میں دبکے بیٹھنا ہے ، جی ہاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا ،میرا مطلب ہے بچوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ کچھ سیر تفریح کے مواقع بھی فراہم کرنے چاہیے۔

اس مرتبہ دسمبر کی چھٹیوں کا مزا دوبالا ہو گیا کیونکہ کراچی کے لوگوں کے لئے ایکسپو سینٹر میں کتب میلے کا انعقاد کیا گیا جہاں بچوں کی غیر معمولی دلچسپی قابل تعریف کہی جا سکتی ہے ـ مجھے کتب میلے میں پہلے دن جانے کا اتفاق ہوا ، لوگوں کا رش دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ شاید یہ صرف تفریح کی غرض سے آئے ہیں لیکن خوشی اس بات پر ہوئی کہ تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں کتابوں کا پیکٹ نظر آیا مطلب ابھی بھی لوگ کتب بینی سے دور نہیں ،بلکہ چاروں طرف دینی کتب ،اصلاح معاشرہ پر دلچسپ کہانیوں کی کتابیں اور ہر عمر کے بچوں کی دلچسپی کے مطابق کہانیوں کی کتب نظر آئیں، خصوصا ہم لکھاریوں کو یہ دیکھ انتہائی مسرت ہوئی ،کیونکہ اکثر لوگ ہم لکھاریوں کو کہتے ہیں کہ بیکار کی مغز ماری کر رہے ہو کوئی کتابیں وتابیں نہیں پڑھتا ہے ـ یہاں آکر لوگوں کی اس رائے کی نفی ہوگئی یعنی ابھی بھی ان تلوں میں تیل ہے۔ ماشاءاللہ ــ

جی ہاں میں بڑی لکھاری نہیں ہوں لیکن جس طرح میری تحاریر پڑھ کر میرے غیر ملکی دوست بھی یہ کہتے ہیں کہ آپ کی تحاریر سے نہ صرف ہم خود اپنی اصلاح کرتے ہیں بلکہ اسے آگے بھی پہنچاتے ہیں ـــ

اس لحاظ سے پڑھنے والوں میں سے کسی ایک کی بھی اصلاح ہوتی ہے تو ہم کامیاب ہیں ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

اس کتب میلے کی کامیابی سے یقیناً ہم سب کو یہ احساس ہوا کہ ابھی بھی وطن عزیز میں کتب بینی کی فضا قائم ہے جس کی تعریف نہ کرنا کنجوسی کے مترادف ہوگی ـــ۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top