عالمی یوم طلبہ

اقوام متحدہ نے 2010ء میں 15 اکتوبر کے دن کو بطور’’عالمی یوم طلبہ‘‘ کے منانے کا اعلان کیا تھا ۔

الحمدللہ ! مسلمان کی شان ہی یہی ہے ۔ اسلامی تعلیمات کی ابتداء ہی لفظ ” اقراء ” یعنی پڑھ سے ہوئی۔ نبی مہربان باوجود امی ہونے قرآن جیسی عظیم تعلیم پانے کے بعد دنیا کے سب سے بڑے استاد ہونے کا درجہ رکھتے ہیں جنہوں نے محض 23 سال کی مدت میں پوری انسانیت کو علم کا وہ بیش بہا خزانہ عطا فرمایا جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آج تک استفادہ کررہے ہیں۔البتہ مسلمان قرآن کو مرنے کے بعد کی زندگی کیلئے موثر سمجھتے ہیں جبکہ غیر مسلم اس کو دنیا کی زندگی کیلئے اہم قرار دیتے ہیں جبکہ یہ دونوں جگہ کی زندگی کیلئے اہم و ضروری ہے۔ نبی مہربانﷺکے ساتھ جو صحابہ و صحابیات تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی اس علم کو سیکھنے اور عمل کرنے یعنی طالب علمی میں گزار دی۔ اسلام علم حاصل کرنے کو فریضہ قرار دیتا ہے ۔ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کے علوم حاصل کرنا ، کائنات کے راز دریافت کرنا،نئے نئے انکشافات اور ان کے ذریعے انسانیت کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کاوشیں کرنا عین عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جس نے اپنے پیچھے کوئی ایسا علم چھوڑا جس سے لوگ فیضیاب ہوتے رہیں وہ مسلمان کیلئے صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب اس کی موت کے مدتوں بعد تک جاری رہتا ہے۔

آج دنیا ایک دن منا کر طالب علم کا حق ادا نہیں کر سکتی بلکہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیسے ؟؟ آج کی دنیا میں نوجوانوں کو بہترین رہنمائی ، محفوظ پرامن ماحول جس میں وہ پوری یکسوئی، اطمینان ،بے خوفی ،جنسی استحصال سے محفوظ ہوکر اپنے تعلیمی سفر کو مکمل کریں اور پوری انسانیت کیلئے کارآمد کارکن ثابت ہوں۔ ان کیلئے ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جائے جو انہیں بحیثیت انسان اپنی ذات کا درست شعور دے، کائنات اور انسان اور خالق کائنات کے درمیان باہم تعلق کی نوعیت کو واضح کرے ۔ یہ تعلیم انسان و کائنات کا خالق یعنی اللہ ہی دے سکتا ہے ۔ اللہ نے نہ صرف 1400 سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہ قرآن نازل کرکے یہ علم انسان کو دے دیا بلکہ توریت و انجیل میں بھی قرآن و نبی آخر الزماںﷺ اور ان کے نظام تعلیم و تربیت کے بارے میں واضح نشانیاں بتادی ہیں۔۔ آج باوجود اس کے کہ دنیا ٹیکنالوجی کی انتہائی بلندیوں کو چھو رہی ہے لیکن انسانیت پستی کی اتاہ گہرائیوں میں گرتی جارہی ہے۔ آج مطلق علم وہ ہے جس سے زیادہ دولت و طاقت حاصل کرنا اور ظلم کرنے کے نت نئے ہتھیار ایجاد کرنا تاکہ مزیدطاقت حاصل کی جاسکے۔

نوجوان نسل کو برباد کرنے کیلئے فیشن کے نام پہ رب کی تخلیق میں چھیڑ چھاڑ کرکے ان کو نفسیاتی امراض و الجھنوں میں مبتلا کر دینا ۔۔ روح کی تسکین کے لئے ایسا علم متعارف کرانا جس نے ایک نوجوان کو مجرم،قاتل ،ذہنی مریض بنادیا حتی کہ خود کشی کے عبرتناک انجام سے دوچار کردیا ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جو بچے کی پیدائش سے زندگی کی آخری سانس تک ایک ایسا نظام تعلیم و تربیت دیتا ہے جس کے ذریعے دنیا کو ایک مطمئن، پراعتماد،مثبت سوچ رکھنے والا ،انسانیت سے محبت کرنے والا ،کائنات ، زمین کے خزانوں، رازوں کو دریافت کرکے دنیا کی آبادکاری کے منصوبے پیش کرنے والا، دنیاکو فساد و قتل و غارتگری سے پاک کرکے اس میں امن ،استحکام اور خوشحالی کی کھیتی پروان چڑھانے والا ایک نفس مطمئنہ وجود میں آتا ہے۔

آج کی دنیا کو ایسے ہی طالبعلم کی ضرورت ہے ۔ آج کا دن پوری دنیا کو ایک نئے عزم کے ساتھ منانا چاہیئے کہ ہم اپنے طالبعلم کو ایک نیا ماحول اور اسلام کا نصاب تعلیم مہیا کریں گے۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top