عاجزی اور انکساری وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو دوسروں کے قریب کرتی ہیں اور معاشرے میں محبت، اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہیں۔جب لوگ جھوٹی اناکی تسکین کی کوشش اور غرور کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں تو اختلافات کم ہوتے ہیں اور باہمی احترام بڑھتا ہے،ایک دوسرے کے خیالات کوسمجھنے کی صلاحیت پیداہوتی ہے، مثبت رویے پرامن اور بہتر معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
تکبر ایسا زہر ہے جو نہ صرف دنیاوی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی دائمی خسارے کا باعث بنتا ہے۔ تکبرانسان کو دوستوں سے محروم کرتا ہے، علم سے دور کرتا ہے، سکون چھین لیتا ہے اور اللہ کی ناراضگی مول لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے برعکس عاجزی انسان کو محبوب بناتی ہے، علم اورترقی کے راستے کھولتی ہے اور جنت کی ضمانت دیتی ہے۔
انسان کی فطرت میں غرور اور تکبر ہمیشہ سے شامل رہا ہے۔ جب وہ کچھ حاصل کرتا ہے تو اکثر اللہ تعالیٰ کی عطا کو بھلا کر یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ سب کچھ اس کی ذاتی قابلیت اور برتری کا نتیجہ ہے۔ یہی سوچ انسان کے دل میں دوسروں پر برتری جتانے، کمزور کو حقیر سمجھنے اور خود کو سب سے بلند تصورکرنے کا سبب بنتی ہے۔ تکبر دراصل ایسا مرض ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا پرانسان کے وجود اور معاشرے کی بنیادوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہتا ہے۔ دین اسلام میں تکبر کو انتہائی سخت الفاظ میں مذموم قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ اس کے نقصانات اور اس پر ملنے والی سخت وعیدوں کا ذکر موجود ہے۔
تکبر نہ صرف دنیاوی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان کے لئے رسوائی اور عذاب کا سبب بنتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ ناسمجھی اور کم عقلی کی وجہ سے یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کب ہم غرور اور تکبر کی حدود پار کر جاتے ہیں۔ کبھی دولت کے حصول پر ہمیں غرور آتا ہے، کبھی علم پر، کبھی اقتدار پر اور کبھی اپنی جسمانی قوت یا حسن پر۔ حقیقت یہ ہے کہ سب عارضی اور فانی چیزیں ہیں، جو آج ہیں تو کل نہیں رہیں گی۔
غرور اور تکبر کی حدود پار کرنا کس قدر خطرناک ہے، اور کس طرح یہ انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر دیتا ہے۔
بہت سے لوگ اپنے متعلق خیال کرتے ہیں کہ وہ متکبر نہیں ہیںپھربھی عملی زندگی میں ان کے رویے دوسروں کے لئے تکبر کی مثال بن جاتے ہیں۔ ایک معمولی سی کامیابی یا ذرا سا امتیاز انسان کو یہ بھلا دیتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے۔ ہم اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔
خودکوحق پرجبکہ اختلاف رائے رکھنے والوں کوباطل تصورکرنا،بات بات پردوسروں کی تذلیل وتوہین کرنے کی کوشش کرنا۔
اپنے متعلق خودہی فیصلہ کرلیناکہ میںباکرداراورباضمیرہوں جبکہ معاشرے کے دیگرلوگ بے ضمیراورجانبدارہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔یقیناً اللہ ہر اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا اور گھمنڈی ہو۔(سورۃ لقمان: 18)نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا۔جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(صحیح مسلم)
یہ واضح اشارہ ہے کہ تکبر محض اخلاقی یامعاشرتی برائی نہیں بلکہ جنت سے محرومی کا باعث بننے والا سنجیدہ گناہ ہے۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تکبر صرف بڑے بڑے لوگوں یا حکمرانوں میں ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماری ہر سطح پر پائی جاتی ہے۔
کسی کے پاس اچھی گاڑی ہے تو وہ پیدل چلنے والے کو حقیر جاننے لگتا ہے۔
کوئی تھوڑا سا علم رکھتا ہے تو وہ دوسروں کو جاہل سمجھنے لگتا ہے۔
کوئی صاحبِ اقتدار ہے تو وہ کمزور کو دبانے لگتا ہے۔
استاد کو اپنے علم پر غرور ہوتا ہے، شاگرد کو اپنی ذہانت پر۔
تاجر کو اپنی دولت پر غرور ہوتا ہے، مزدور کو اپنی محنت پر۔
خوبصورت انسان کو اپنے حسن پر غرور ہوتا ہے، طاقتور کو اپنی قوت پر۔اکثرلوگ اپنی اناکی تسکین کوبحال رکھنے کی کوشش میں تمام حدودپارکرجاتے ہیں۔
ہم میں سے اکثرلوگ کسی نہ کسی حدتک تکبرجیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیںپر اپنی ناسمجھی اور کم عقلی کے باعث سمجھ نہیں پاتے۔
غرور کرنے والا شخص جلد یا بدیر دوسروں کے دلوں سے نکل جاتا ہے۔ لوگ اس سے دور رہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ کوئی بھی شخص ایسے رویے کو برداشت نہیں کرتا جس میں دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔متکبر شخص ہمیشہ اپنے مقام کو قائم رکھنے کے لئے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ رویہ اسے ذہنی دباؤ اور مستقل بے سکونی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
ایک متکبر حکمران یا سربراہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اپنے مشیروں اور عوام کی بات سننے کے بجائے ہمیشہ اپنی رائے کو فوقیت دیتا ہے۔ نتیجہ زوال اور تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔غرور انسان کو یہ گمان دلاتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہی سوچ اس پرعلم کے دروازے بند کر دیتی ہے اور وہ علمی ترقی کی راہوں سے محروم ہو جاتاہے۔
تکبر کرنے والا شخص گویا یہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں سے برتر ہے، یہی سوچ اسے اللہ کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہے۔ حالانکہ اصل عظمت صرف اللہ کے لئے ہے۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، تکبر کرنے والے کے لئے جنت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے جو آخرت کا سب سے بڑا نقصان ہے۔قرآن مجید میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو زمین پر چیونٹیوں کی طرح روندہ جائے گا۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو دنیا میں خود کو سب سے برتر سمجھتے تھے۔ایک متکبر فرد پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ ہر شخص دوسروں کو نیچا دکھانے لگے تو معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور تعاون ختم ہو جاتا ہے۔ یہی رویہ معاشرے کو انتشار اور ناانصافی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ہم اکثر ناسمجھی اور کم عقلی کی وجہ سے یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کب ہم غرور و تکبر کی حدود پار کر جاتے ہیں۔ یہ رویہ بظاہر چھوٹا سا لگتا ہے پر حقیقت میں یہ دنیا اور آخرت دونوں کے لئے تباہ کن ہے۔ دنیا میں تکبرہمیں تنہائی، رسوائی،بے سکونی اور ناکامی کا شکار کرتا ہے، جبکہ آخرت میں جنت سے محرومی اور دوزخ کا سبب بنتا ہے۔
تکبر کی بیماری کا علاج عاجزی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا۔جو شخص اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کا مقام بلند فرما دیتا ہے۔(مسند احمد)عاجزی انسان کو دوسروں کے دلوں میں جگہ دیتی ہے،علم میں اضافہ کرتی ہے، دوست بناتی ہے اور اللہ کی رضا کا باعث بنتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں عاجزی کو اپنائیں، دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں، دوسروں کی رائے کوسمجھیں اور تسلیم کریں،ہمیشہ یاد رکھیں کہ سب کچھ اللہ کی عطا ہے۔ تکبر ہمیں ذلت کی طرف لے جاتا ہے جبکہ عاجزی ہمیں عزت اور کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔ہر وقت اپنے دل ،اپنی نیت کا جائزہ لیں، اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھیں اور عاجزی و انکساری کو اپنا شیوہ بنائیں۔ یہی راستہ ہمیں دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کر سکتا ہے۔















