کوفیہ

فلسطین میں زیادہ تر سفید اور سیاہ رنگ سے بنا یہ رومال سفید کپڑے پر سیاہ دھاگوں سے زیتون کے پتوں کی کڑھائی سے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں، استعمال ہوتے آئے ہیں یہ عرب کے صافے، یا رومال انکی تہذیب و ثقافت کا حصہ بھی ہیں، یہ انکی عزت اور وقار اور شناخت کا باعث بھی ہے۔ بعض اوقات یہ سفید اور سرخ رنگ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

کوفیہ کی تاریخ :

تاریخ سر زمین عرب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1930 کے بعد سے یہ رومال فلسطین کی پہچان بنا، جسے مسلم دنیا کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ فلسطین کے لوگ اپنے رواج و عادت کے مطابق اسے سر اور کاندھوں پر ڈالتے ہیں، یہ رومال فلسطین کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت اور اسکے دشمنوں کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فلسطین کی تنظیم آزادی کے معروف رہنما یاسر عرفات اسے ہمیشہ پہنا کرتے تھے فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین اور دیگر رہنما و لوگ بھی یہ پہنا کرتے تھے، اب بھی پہنتے ہیں۔

موجودہ دور میں کوفیہ کی اہمیت :

آج دنیا بھر میں مشرق و مغرب دونوں میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی یہ اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کےلیے بھی پہن رہے ہیں۔

ایک ضروری وضاحت و ہدایت :

صاف ظاہر ہے کہ اس رومال کا دہشت گردی یا غنڈہ گردی اور لوٹ مار سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ فلسطین کی جدوجہد آزادی یامزاحمت اور اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کی علامت سمجھا جاتاہے۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے آج کل الیکٹرانک میڈیا پر ڈراموں میں غنڈہ عناصر دہشت گرد افراد کو یہ رومال سر اور منہ پر لپیٹے وارداتیں کرتا ہوا دکھایاجارہا ہے، کہیں سوشل میڈیا پر ویڈیوز وغیرہ میں بھی اسے غلط قسم ہے لوگوں کو استعمال کرتا دکھاتہے ہیں۔ کوفیہ کی اس طرح کی غلط تصاویر و منظر کشی سے اس رومال کی توہین اور فلسطین کی جدوجہد آزادی کو غلط رنگ دینے کی حرکتیں یا کوششیں بڑی ہی نا قابل قبول ہیں بلکہ مظلوم و بے بس نہتے فلسطینیوں کی مزاحمت اور اسکا مذاق بنانے کی بہت بڑی قبیح حرکت ہے جس کی فوری روک تھام کی ضرورت ہے۔

لہذا پیمرا میڈیا چینلز کو اس سلسلے میں پابند کرے کہ اس فلسطینی رومال کوفیہ جو آج ارض مقدس الاقصیٰ کی شناخت ہے اسے غنڈہ گرد یا دہشت گرد عناصر یا برے بد قماش قسم کےلوگوں کو استعمال کرتے دکھانے سے گریز کریں۔ اس مقدس علامت و شناخت کی حرمت کو پامال نہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں

Scroll to Top