اجرک سندھ کی پہچان ہے کراچی سندھ کا حصہ ہےلہذا اگر اسکی چھاپ کہیں لگتی ہے تو فکر کس بات کی؟
اصل بات یہ ہے کہ تعصب میں لتھڑی پی پی نے اجرک کو سندھ کے بجائے پی پی کا نشان سمجھ لیا ہے اور اسی ذہنیت کو کراچی پر مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
کراچی سندھ کا حصہ ہے اور جو سندھ اور کراچی میں مسلم رہتے ہیں مسلم جسد واحد کی مانند ہیں اور مسلم ایک کلمہ کی بنیاد پہ رہتے ہیں تو کراچی والوں اجرک کی نمبر پلیٹ کے ساتھ ساتھ اس جدوجہد میں بھی شامل ہوں کہ اجرک کا یہ نشان پی پی کے دماغ سے کھرچ کہ نکالنا ہے یہ رنگ یہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔
اس رنگ کو اس نشان کو آذاد کروانا ہے سندھ کو بدنام ذمانہ وڈیرہ سسٹم سے نجات دلانا ہے سندھی مہمان نوازی میں نرم دلی میں مشہور تھے انھیں انکی یہ پہچان واپس دلانی ہے اسکے گلیوں کوچوں کو اس کی تہذیب ظالمانہ نظام سے نجات دلانی ہے اسکو ترقی دینی ہے اسکی سڑکوں کو ان کھڈوں سے نجات دلانی ہے جس نے سندھی اجرک کو بدنام کیا ہوا ہے۔
کراچی والوں اجرک کو آزاد کرواو اور سندھ کےلیے ایسے دیانت دار، اہل، کرپشن سے پاک، انصاف و مساوات کو سمجھنے والے نافذ کرنے والے حکمرانوں کو تلاش کرو تعلیم یافتہ باشعور بنو تاکہ حاوی ہونے والے اور حق ہتھیانے والوں کو پہچان سکو انکی چالاکیوں اور دھوکہ سے بھرے خوشنما نعروں کےسحر سے باہر آسکو۔
خود ان انگوٹھا چھاپ پی پی والوں کے بھی کندھےسختی سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر بتا سکو کہ یہ اجرک تمھاری جاگیر نہیں آزاد خود مختار سندھ کی پہچان ہے۔
جس کو تم نے اپنی ظالمانہ حکومت اورشہروں پہ بغیر میرٹ کے جبری مسلط کے ماتحت قبضہ کیا ہوا ہے۔
إن شاءاللہ عوام کو شعور دے کر وڈیرہ شاہی سے نجات دلائیں گے سوسائٹیز سے اور مافیاز کے توسط سے ہڑپ کرنے والے قوم کے خزانوں کو تمھارے حلق سے نکالنے کی جدو جہد جاری رکھیں گے۔















