پنجاب میں بارش نے تباہی مچادی: درجنوں افراد جاں بحق، سیکڑوں زخمی، رین ایمرجنسی نافذ

rain emergency declared

لاہور: پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، راولپنڈی میں 15 گھنٹے میں 230 ملی میٹر بارش برسنے پر ندی نالے بپھر گئے، نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر سائرن بجادیے گئے جبکہ پاک فوج گوالمنڈی پل پہنچ گئی،24 گھنٹے میں حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ متاثرہ علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مون سون بارشوں کے باعث صوبے بھر میں 63 افراد جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارےکے مطابق راولپنڈی انتظامیہ نے جمعرات کے روز شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے، جڑواں شہروں میں مسلسل 15 گھنٹے سے زائد وقت تک موسلا دھار بارش ہوتی رہی، جس کے باعث مختلف علاقے زیرِ آب آ گئے۔

صورتحال کے پیشِ نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلیں، انہوں نے شہریوں سے واسا، راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں سے مکمل تعاون کی اپیل کی اور انہیں خبردار کیا کہ نشیبی علاقوں میں پانی کے قریب جانے سے گریز کریں۔

شدید بارش کے باعث مری روڈ کے متعدد مقامات کمیٹی چوک انڈرپاس، مری چوک، بنی چوک، جامع مسجد روڈ، اقبال روڈ اور دیگر سڑکوں پرٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

نالہ لئی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے سائرن بجادیے گئے ہیں جبکہ پاک فوج نالہ لئی کی صورتحال کا جائزہ لینے گوالمنڈی پل پہنچ گئی، نالہ لئی کے اطراف کی مساجد سے اعلانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

راولپنڈی کنٹونمنٹ اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے نالہ کی صفائی نہ ہونے پر بارشی پانی گھروں میں داخل ہوگیا، بحریہ ٹاون فیز8 میں نالے کا پانی سڑکوں پرآگیا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں سے موٹروے بھی زیر آب آگئی، موٹر وے پر موجود شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

راولپنڈی میں نیو چاکرا، ٹینچ بھاٹہ اور جان کالونی میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جان کالونی کے رہائشیوں نے امدادی ٹیموں سے مدد کی اپیل کر دی، گرجا روڈ اور محلہ قریشی میں بھی پانی کا زور ٹوٹ نہ سکا۔محلہ قریشی آباد کے متعدد گھر زیرِ آب آگئے،ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کردی گئیں۔

راولپنڈی میں چکری روڈ لادیاں گاؤں میں پھنسی فیملی کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا، ہیلی کاپٹر چھت پر پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے بجھوایا گیا، فیملی کو ریسکیو کرنے کے لیے جانے والی ریسکیو ٹیم کی ناکامی پر ہیلی کاپٹر بھجوایا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر راولپنڈی سمیت پنجاب کے شدید بارشوں، سیلاب اور طغیانی کی لپیٹ میں آئے علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو سمیت دیگر تمام ادارے عوام کو سیلابی صورتحال سے بچانے کے لیے پورے صوبے میں متحرک ہوگئے، کشتیوں کے ذریعے عوام کی مدد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ لاہور میں 15، فیصل آباد میں 9، ساہیوال میں 5، پاکپتن میں 3 اور اوکاڑہ میں 9 افراد ہلاک ہوئے، ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

پنجاب ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد کے مطابق، جہلم میں ڈھوک بڈار، ڈھوک شاہ عارف، سوہاوہ، رسولپور، چک محمد اور بھمپر دیہات میں سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک پاک فوج کی مدد سے 57 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، جب کہ جہلم میں جاری کارروائیوں میں 50 سے زائد ریسکیو کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ریسکیو ٹیمیں پنجاب بھر میں مختلف اضلاع میانوالی، راولپنڈی، چکوال، اٹک، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور لیہ میں تعینات کی گئی ہیں۔ صوبے بھر میں 15ہزار سے زائد ریسکیو اہلکار اور 800 ریسکیو کشتیاں ہائی الرٹ پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اور ریسکیو ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top