ملک نازک موڑ پر،بحران کی گھڑی میں قابل اعتمادقیادت ناگزیر ہے: تحریک انصاف

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی احتجاجی تحریک کے حوالے سے شدید ابہام اور اندرونی اختلافات کا شکار دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے پارٹی مؤقف واضح نہیں رہا۔ رہنماؤں کے متضاد بیانات نے کارکنوں اور عوام میں الجھن پیدا کر دی ہے۔ پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے 5 اگست کو احتجاج کی کال سامنے آئی، لیکن چند روز قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 90 دن پر محیط تحریک کی بات کی، جس سے پارٹی کے لائحہ عمل پر سوالات اٹھنے لگے۔ منگل کے روز سینیئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے بھی اس ابہام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا پیغام کچھ اور تھا، جبکہ پارلیمانی کمیٹی میں کچھ اور باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے بانی سے ملاقات نہ ہونے کو بھی ایک سازش سے جوڑ دیا۔ دوسری جانب، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے 90 دن کی بات کو محض پارلیمانی سیاست سے تعبیر کیا۔ تاہم، پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے علی امین گنڈاپور کی بات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ صرف عمران خان کی دی گئی تاریخ ہی قابل قبول ہے، کوئی 90 دن کی تحریک نہیں چلے گی۔ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر مزید غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے گئے تو تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، محض غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی اندرونی سطح پر یکجہتی کی کمی کا شکار ہے، اور اس وقت پارٹی کو واضح حکمت عملی اور مربوط قیادت کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور بحران کی اس گھڑی میں عمران خان کی قیادت ناگزیر ہے۔

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے، ایسے وقت میں قومی اتحاد اور قابل اعتماد قیادت ناگزیر ہے۔

پی ٹی آئی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مودی کی قیادت میں ہندوستان علاقائی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، ہم اس جنگ کی حمایت اور تسلط کے خطرناک عزائم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

سیاسی اور کور کمیٹی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی طاقت اور واضح ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بحران کی اس گھڑی میں عمران خان کی قیادت ناگزیر ہے، اس نازک وقت بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنا محض ناانصافی نہیں ملک و قوم سے دشمنی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی فوری رہائی کامطالبہ کرتی ہےتاکہ قوم سرحدوں کےدفاع میں متحد ہوسکے۔

مزید خبریں

Scroll to Top