کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑادیںڈائریکٹر جنرل کی سرپرستی میں غیرقانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کیے جانے لگا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی ایڈمن سوسائٹی میں واقع پلاٹ نمبر B-172، بلاک 5 پر بلڈر محسن وحید کی جانب سے 4 منزلہ غیرقانونی عمارت تعمیر کی جارہی ہے، تعمیرات کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے اگست 2023 میں تعمیرات کو روکنے اور منہدم کرنے کا حکم جاری کیا تھا، بعدازاں بلڈر نے سپریم کورٹ سے اسٹے حاصل کرکے تعمیرات مکمل اور 8 پورشن آباد کردیے تھے۔
رواں ماہ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران اسٹے آرڈر ختم کرتے ہوئے ایک ماہ میں دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر تمام تعمیرات منہدم کرنے جبکہ گراؤنڈ اور پہلی منزل کی تعمیرات پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
اس حوالے سے درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے فلوقت تعمیرات کو منہدم نہیں کیا ہے، عثمان فاروق کے مطابق بلڈنگ کنٹرول تعمیرات منہدم نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی مرتکب ہوگی۔
اہل محلہ کا کہنا تھا کہ غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے سوسائٹی ایک گوٹھ کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے، ناقص تعمیرات نہ صرف کسی انسانی المیہ کو جنم دے سکتی ہے بلکہ پانی اور گیس کی قلت کا سبب بھی بن رہی ہیں۔
عثمان فاروق ایڈوکیٹ کا کہنا تھا بلڈنگ کنٹرول نے سپریم کورٹ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کیا تو توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔















