کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری)صوبائی وزیر خوراک عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے ادا کررہا ہے،جہاں سے بھی شکایت موصول ہوتی ہے وہاں کارروائی کی جاتی ہے،صوبے میں لاکھوں کی تعداد میں ریسٹورینٹ موجود ہیں،تاہم صرف 13500لائسنسز حاصل کئے گئے ہیں یہ تعداد انتہائی کم ہے،وہ کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام اسلامک چیمبر آف کامرس میں 16 ویں کنزومر فود سیفٹی کوائلٹی کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر میزبان کنزومر ایسوسی ایشن کے چئیرمین کوکب اقبال ،پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ،سندھ فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آصف جاں صدیقی ،پرویزاحمد بلوچ،مرزا عالم بیگ،یو این او کے نمائندہ برائے خوراک جولئیس ،برگیڈئیر اسد،پروفیسر شہانہ عروج کاظمی،منصب ابرارصابر احمدودیگر نے بھی خطاب کیا،تقریب میں سنیئر سیاستداں بیگم رحت جاوید اور ان کی صاحبزادی رکن سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید بھی موجود تھے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ادارہ خوراک مضبوط ہو اور آزادی سے کام کرے،انہوں نے کہا کہ میں امریکہ گیا تو وہاں کھانے میں بہت احتیاط کرتا تھا اور حلال فوڈز کے ریسٹورینٹ تلاش کرتا تھا، کوکب اقبال کے کام کرنے کا طریقہ بہت پسند آیاہے،میں کوکب اقبال کو سندھ فوڈ اتھارٹی کے بورڈ کا ممبر بنانے کا آج ہی اعلان کرتا ہوں اور ان کی مثالی کارکردگی کی بناءپر انہیں تمغہ امتیاز دلانے کے لئے صدر آصف علی زرداری سے سفارش کروں گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کوکب اقبال نے کہا کہ ان کی کوشش سے چاروں اسمبلیوں سے قانون پاس کرواکر صوبائی فوڈ اتھارٹی صوبائی فوڈ اتھارٹی کا قیام عمل میںلایا گیا،انہوں نے کہا کہ وہ خریداری کے لےے خود مارکیٹ میں جاتے ہیں اور یہ چیک کرتے ہیں کہ وہ اشیاءفروخت نہ ہوں جن کی معیاد گزر چکی ہے، ایک عرصے سے صارفین کے حقوق کا تحفظ کررہے ہیں ،لیکن حکومتی سطح پر انہیں کوئی ایوارڈ نہیں دیا گیا،بہت سے لوگوں کو مختلف تمغے دئیے گئے ان کا بھی حق بنتا ہے کہ انہیں تمغہ امتیاز دیا جائے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ سپورٹ کریں اور صوبائی وزیر بھی اس معاملے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ڈاکٹر اختیار بیگ نے کہا کہ ان کا کوکب اقبال اور کنزومر ایسوسی ایشن سے دیرینہ تعلق ہے،کوکب اقبال جس طرح صارفین کے حقوق کی بات کرتے ہیں وہ باعث فخر ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ کوکب اقبال کا نام تمغہ امتیاز کی فہرست میں شامل کرانے کے لئے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں گے ،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نام شامل ہونے کے باوجود آخری وقت میں نام نکال دیاجاتا ہے۔
یو این او کے نمائندے جولئیس نے کہا کہ پاکستان 1947 میں اپنے قیام کے تین ہفتے بعد ہی یو این او کا ممبر بن گیا تھا ،انہوں نے کہا کہ صاف ستھرے اور اعلیٰ معیار کی خوراک انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے،بد قسمتی کی بات ہے کہ آج بھی کروڑوں انسان ایسے ہیںجنہیں معیار خوراک میسر نہیں ہے۔
ڈی جی آصف جاں صدیقی نے کہا کہ ہم خوراک کا معیار بہت بنانے کے لئے صوبے میں لیبارٹریز کی تعداد بڑھا رہے ہیں اور مختلف ریسٹورینٹس اور خوراک سے متعلق اداروں پر چیکنگ کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔
پرویز احمد نے کہا کہ یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ سندھ میں چاول کی کاشت میں وہ کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے جو زہریلہ ہوتا ہے اور یہ کپاس کی فصل میں استعمال ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ سندھ سرخ مرچ پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے اور یہاں پر بھی مرچ کی پیداوار میں ایسا کیمیکل ہوتا ہے جس سے لوگ جگرکے کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
منصب ابرارنے کہا کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ یہاں 65 فیصد لوگ وہ ہیں جن کی عمر 40 سال سے کم ہے ہم اس تعداد سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ،برگیڈئیر اسد نے کہا کہ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ فوڈ پانڈہ میں جو رائیڈر کام کرتے ہیں وہ اکثر بائیک چلانے کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس سے ٹریفک حادثات کے خطرات بڑھ جاتے ہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں صوبائی وزیر عبدالجبار خان سمیت میزبان کوکب اقبال ،ڈی جی فوڈآصف جاں صدیقی،پرویز احمد بلوچ،ایکنکر سفیان ،صحافی تراب شاہ،منصب ابرار، مرزا عالم بیگ ،ماریہ فاطمہ،اسد جمیل،رفیق خالانی،تحسین فاطمہ میانو،خلیل الرحمن،حاجی محفوظ ،عظمت سومرو،اسد ایوب،مریم حنا ،وقار عباسی،جولئیس،آغا شیرازی،ہارون احمد ودیگر کو شیلڈ پیش کی گئی۔















