کراچی: کراچی میں پولیس کی وردی میں ملبوس 2 ملزمان نے شہریوں سے ایک لاکھ روپے چھین لیے۔
پولیس کی وردی میں بڑھتی ہوئی وارداروں نے پولیس کی بدعنوانی اور منفی سرگرمیوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق واقعہ تھانہ صدر کی حدود کینٹ اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں سوزوکی سوئفٹ BHJ_754 میں سوار پولیس کی وردی میں ملزمان نے روڈ پر 3 شہریوں کو چیکنگ کے بہانے روک لیا۔ چیکنگ دوران پولیس کی وردی میں ملزمان نے شہریوں کی جیبوں سے ایک لاکھ روپے نکال لیے اور گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے واقعے کی شدید مذمت اور احتجاج کیا اور پولیس کی جانب سے کارروائی کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے ابتدائی تحقیقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی جا سکی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس ملزمان کا یہ عمل نہ صرف شہریوں کی جان و مال کےلیے خطرہ ہے بلکہ اس سے پولیس کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پولیس کے اندر بدعنوانی کی سطح کتنی گہری ہو چکی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی اس طرح کے غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوں تو شہری کس پر اعتبار کریں؟ پولیس کا کردار عوامی اعتماد کو قائم رکھنے کے بجائے مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
متاثرہ شہریوں اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور پولیس حکام کی جانب سے کسی مؤثر کارروائی کا فقدان ہے۔
پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس واقعے کی تحقیقات کے احکام جاری کر دیے ہیں، لیکن شہریوں میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کی داخلی تحقیقات میں کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے اور جو بھی اہلکار اس واردات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس کے ساتھ ہی شہریوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کے خلاف اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلیے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ اس واقعے نے پولیس کے کردار پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں، اور اب شہریوں کی نظریں پولیس کی تفتیش اور اس کے نتائج پر ہیں۔















