غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے گزشتہ روز بھی غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رہا جہاں صیہونی فوج کے تازہ حملوں میں59 فلسطینی شہید ہوگئے ۔ دوسری جانب القسام بریگیڈ نے غزہ سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر متعدد راکٹ حملے کیے جس کی وجہ سے اسرائیلی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق محض 3 دنوں میں 591 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 200 معصوم بچے شامل ہیں۔رفح کے شابورہ علاقے میں اسرائیلی فوج کی زمینی یلغار سے شہر کے مختلف حصے کھنڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کا واحد کینسر اسپتال بھی تباہ کردیا۔ عرب میڈیا کے مطابق ترک فلسطینی دوستی اسپتال نتساریم کوریڈور میں شارع صلاح الدین کے قریب واقع تھا۔اسرائیلی فوج ماضی میں اس اسپتال کو شمالی اور وسطی غزہ میں اپنے حملوں کے دوران کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں فلسطینی افطار کے بجائے ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں‘ اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جہاں پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔یہ مظاہرے مسلسل تیسرے دن بھی جاری رہے، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ احتجاج شین بیٹ کے سربراہ رونین بار کی برطرفی اور غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت 59 اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے واپس لانے میں ناکام رہی ہے اور ملک کو آمریت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جب سیکڑوں افراد وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے اور سیکورٹی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اور کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔اس جارحیت کے خلاف یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر بھی اسرائیلی بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ فلسطینی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ جارحیت دراصل فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے اور ان کی شناخت مٹانے کی کوشش ہے‘ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس گروپس نے اسرائیل کے ان اقدامات کو اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔فلسطینی سینٹر برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے عالمی برادری سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، “دنیا کہاں ہے؟ مشترکہ انسانی اقدار کہاں ہیں؟”















