گولارچی (نمائندہ جسارت) دریائے سندھ پر ناجائز کینالز اور زمینوں پر قبضے کے خلاف گولارچی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،احتجاجی ریلی، دھرنا۔تفصیل کے مطابق، “دھرتی اور دریا بچاؤ تحریک” تعلقہ گولارچی کی جانب سیدریائے سندھ سے ناجائز کینال نکالنے اور سمندری پٹی سمیت پورے سندھ کی زمینوں پر قبضے کے خلاف دھرتی اور دریا بچاؤ تحریک کی اپیل پر امیر آزاد پنھور، علی مردان شاہ، ناز نوتکانی، رضا آکاش، جاکرو نوحانی، ڈاکٹر لال چند بھیل، ابو نوحانی، بیرسٹر حسن علی شاہ، ملک کامران، شاہنواز سیال، بچل احمدانی، عاطف گجر، جمعوں، راجو، غلام رسول جت، مرزا نظیر، مرزا اختر، ملک اختر اور محمد طاہر آرائیں،خادم گجر،طارق بلال و دیگر کی قیادت میں احمد راجو روڈ سے ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی اور پورے شہر کا گشت کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ بعد ازاں، شہید فاضل راھو چوک پر تین گھنٹے تک دھرنا دے کر زمینوں پر قبضے اور دریا پر ناجائز کینال بنانے کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔اس موقع پر دھرنے کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ،سندھ کی معیشت کی شہہ رگ ہے، اس پر کینال بنا کر سندھ کو بنجر و بیابان بنانے نہیں دیں گے۔ پیپلز پارٹی کے صدر نے سندھ لکھ کر دے دیا۔جبکہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ نے سندھ کی زمینوں کو “گرین پاکستان منصوبہ” کے تحت لکھ کر دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی مل کر سندھ کے وسائل کو لوٹنے میں سہولتکاری کر رہے ہیں۔















