حکومت برطانیہ کے محکمہ ریونیو اور کسٹمز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور تین بار کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے صاحبزادے کو ’’دانستہ ٹیکس نادہندہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ برطانوی حکومت نے سرکاری ویب سائٹ پر ٹیکس نادہندگان کی تازہ فہرست جاری کی ہے جس میں حسن نواز شریف کا نام بھی شامل ہے۔ برطانوی محکمہ ریونیو اور کسٹمز نے ٹیکس نادہندہ ہونے کے جرم میں حسن نواز کو باقاعدہ جرمانہ بھی عائد کیا ہے جس کی مقدار ایک ارب 88 کروڑ روپے یا برطانوی کرنسی میں باون لاکھ پائونڈ ہے۔ برطانوی حکومت کے سرکاری طور پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے پانچ اپریل 2015ء سے چھے اپریل 2016ء تک کے عرصے میں تقریباً تین ارب اکتالیس کروڑ روپے (94 لاکھ پائونڈ) کا واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کیا جس پر برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے حسن نواز کو باقاعدہ جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ حسن نواز پہلے ہی اس ضمن میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہوں نے خود کو دیوالیہ قرار دلوانے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دیوالیہ قرار پا جانے کے باوجود حسن نواز کو جرمانہ ادا کرنا ہو گا کیونکہ برطانوی معاشی قوانین کے مطابق قرضہ تو معاف ہو جاتا ہے لیکن ٹیکس چوری کے جرمانے دیوالیہ ہونے پر بھی معاف نہیں کیے جاتے۔ قانونی ماہرین کی رائے یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں ٹیکسوں اور جرمانوں کا جو طریق کار اور قوانین رائج ہیں ان کے تحت حسن نواز کے اثاثے بھی ضبط کیے جا سکتے ہیں تاہم انہوں نے خود کو دیوالیہ قرار دینے کی جو کارروائی ایک برس قبل شروع کی تھی اس کی وجہ سے ان کے خلاف اثاثوں کی ضبطی کا عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔ صاحبزادہ حسن نواز نے ذاتی طور پر تو اپنے خلاف برطانوی حکومت کی اس کارروائی پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے تاہم ان کے قریبی ذرائع نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے اور جلد جواب دے گی۔ دوسری جانب حسن نواز کے قانونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانوی محکمہ کسٹمز اور ریونیو کے اب شائع کیے جانے والے اعداد وشمار پرانی کہانی کا حصہ ہیں، معاملہ دس سال پرانا ہے اور حسن نواز نے اس وقت تمام ٹیکس جمع کرا دیا تھا۔ شریف خاندان گزشتہ چار ساڑھے چار دہائیوں سے پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں کا مکین چلا آ رہا ہے اس وقت سے آج تک اندرون ملک یا بیرون ملک بدعنوانی کا جو بھی اسکینڈل سامنے آتا ہے شریف خاندان اس کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق حبیب بینک کے اس وقت کے سربراہ یونس حبیب نے جنرل اسلم بیگ اس وقت کے آرمی چیف اور جنرل اسد درانی کی ہدایت پر جو بھاری رقوم قومی خزانے سے سیاست دانوں میں تقسیم کیں ان میں بھی شریف خاندان بڑا حصے دار تھا، پھر وکی لیکس کا معاملہ ہو یا اس طرح کے منظر عام پر آنے والے دیگر بین الاقوامی بدعنوانی کے اسکینڈل، شریف خاندان کا نام ان سب میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اب نیب قوانین میں راتوں رات تبدیلیاں کر کے اسے بے دست و پا بنا کر اگرچہ شریف خاندان اقتدار کے سہارے اپنے خلاف بدعنوانی کے اکثر مقدمات میں بریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرتا چلا جا رہا ہے مگر کون نہیں جانتا کہ ان مقدمات میں مدعی، ملزم اور گواہ حتیٰ کہ جج صاحبان بھی کس طرح فیصلے کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ رائے ونڈ کے محلات میں جس طرح سرکاری خزانے سے پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا اور ہر طرح کے قومی وسائل ان محلات کی تعمیر میں اندھا دھند استعمال کیے گئے وہ بھی معاملات پر نظر رکھنے والے کسی فرد سے پوشیدہ نہیں۔ اب یہ جو برطانیہ میں تین بار کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادہ حسن نواز کے خلاف تقریباً دو ارب روپے کا جرمانہ ٹیکسوں کی عدم ادائیگی اور نادہندگی کے جرائم میں سامنے آیا ہے، اس پر شریف خاندان پردہ ڈالنے کی لاکھ کوششیں کرے مگر یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ مالی بدعنوانیوں کا عادی شریف خاندان بیرون ملک بھی اپنی اس خوئے بد سے باز نہیں آیا۔ پاکستان میں تو عام طور پر شریف خاندان اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کو مخالفین کی سیاسی انتقامی کارروائی کہہ کر اپنی پاک دامنی کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا برطانیہ کی حکومت اور اس کے ٹیکس اداروں میں بھی شریف خاندان کے مخالفین جمع ہو گئے ہیں، جو ان کی بدعنوانی کی داستانیں اخبارات کی شہ سرخیوں کا عنوان بن رہی ہیں۔ شریف خاندان کو سوچنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی نیک نامی پر بھی حرف آ رہا ہے۔ شریف خاندان کے دہرے کردار کی ایک نمایاں مثال میاں نواز شریف کے فرزندان ارجمند کی ملکوں ملکوں میں پھیلی سرمایا کاری ہے حالانکہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تب وہ خود اور اب ان کے برادر خورد وزیر اعظم محمد شہباز شریف اپنے ہر بیرونی دورے میں سرمایا داروں کو پاکستان میں سرمایا کاری کی دعوت دیتے نہیں تھکتے جب کہ بیرون ملک سے بھی سرمایا داروں کے وفود پاکستان بلا کر ان کی ہر ممکن آئو بھگت اور خوشامد کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایا کاری کریں مگر خود شریف خاندان اپنا سرمایا پاکستان سے باہر لے جا کر دوسرے ملکوں میں سرمایا کاری کی شہرت رکھتا ہے۔ ان حالات میں یہ سوال اہم ہے کہ میاں نواز شریف شہباز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف کی بیرونی سرمایا کاروں کو پاکستان آنے اور سرمایا کاری کرنے کی دعوت کیوں کر نتیجہ خیز ہو سکتی ہے اگر شریف خاندان واقعی پاکستان کی صنعتی و زرعی ترقی کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنا سرمایا پاکستان لانا ہو گا ورنہ ان کی باتیں بے وزن ہی رہیں گی…!!!















