کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی سندھ کا شف سعید شیخ نے غزہ پر وحشیانہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہیہ ناقابل قبول ہے کہ اسرائیل خطے میں ایک نئے تشدد کے سلسلے کو جنم دے رہا ہے، اسرائیلی حکومت کا جارحانہ رویہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہے، ٹرمپ کی آشیرباد سے اسرائیل نے ایک بار پھر نہتے اور معصوم شہریوں کا قتل عام کرکے ثابت کردیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست اسرائیل ہے،امریکا اور اسرائیل کی دہشت گردی کو فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش اور امت مسلمہ کے حکمرانوں کی بے
حسی وبزدلی کا نتیجہ قرار دیا ہے، جماعت اسلامی سندھ غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیلی قابض افواج کی جارحیت کے دوبارہ آغاز اور نہتے شہریوں کی آبادی والے علاقوں پر ان کی براہ راست بمباری کی مذمت کرتی اور اسے مسترد کرتی ہے جو کہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ امریکی سرپرستی میں فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم، صہیونیوں نے غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین فسطائیت کی ہے۔ غزہ میں 48ہزار فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، ہزاروں لوگ ملبے تلے دبے ہیں اور زخمیوں کی تعداد کئی لاکھ ہے جبکہ 17رمضان المبارک کو سحری کے ٹائم پر جاری جنگی حملوں میں 400سے زاید نہتے بچوں، خواتین اور بزرگوں کی شہادت اور ہزاروں افراد کو زخمی کردیا گیا جبکہ غزہ کے باسیوں کو ڈیڑھ سال کے دوران چوتھی مرتبہ نقل مکانی کرنے کا حکم دے دیا گیاہے۔ کاشف سعید شیخ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس وقت غزہ میں خوراک اور ادویات کا شدید بحران ہے،غزہ کی تمام عمارتوں جس میں اسپتال، تعلیمی ادارے اور بجلی پانی کا انفرااسٹرکچر شامل ہے مکمل طور پر تباہ کردیے گئے ہیں جس کی وجہ سے غزہ کی27لاکھ آبادی مکمل طور پر تباہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔یہ ناقابل قبول ہے کہ اسرائیل خطے میں ایک نئے تشدد کے سلسلے کو جنم دے رہا ہے، اسرائیلی حکومت کا جارحانہ رویہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے مؤثراقدامات کریں تاکہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور فلسطینی عوام کے مسائل میں کمی ممکن ہوسکے۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرکل بروز جمعہ 21مارچ کو کراچی تا کشمور امریکا اور اسرائیل کی دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔















