کراچی (کامرس رپورٹر) تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ نظرثانی شدہ سولر پالیسی حکومت کی جانب سے ایک سنگین غلطی ہے جس سے مارکیٹ غیر مستحکم جبکہ عوام اور سرمایہ کار مایوس ہو گئے ہیں۔ اس سے حکومت کو فائدے کے بجائے اربوں کا نقصان ہو گا۔یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو منفی سگنل جا رہا ہے اس لئے فیصلہ واپس لیا جائے۔ شاہد رشید بٹ نے انھوں نے کہا کہ مفروضوں اور بدنتی پر مبنی اس فیصلے سے پاکستان میں گرین انرجی کے استعمال میں اضافہ کوششوں کو دھچکہ پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت خرید میں تبدیلی اور نیٹ میٹرنگ سے مجموعی میٹرنگ میں تبدیلی نے ملک بھر میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔حکومت نے شمسی پینل رکھنے والوں کے لیے مالی فوائد میں بڑی حد تک کمی کر دی ہے۔ اب انہیں 27 روپے کی بجائے 10 روپے فی یونٹ ادائیگی کی جائے گی جو کہ مایوس کن ہے۔نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین کو پہلے اضافی بجلی پیدا کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا تھا جس سے ان کے بجلی کے بلوں میں کمی واقع ہوتی تھی مگر اب صورتحال بدل گئی ہے جس سے شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والوں کو نقصان ہو گا۔حکومت کی جانب سے ان تبدیلیوں کے لولے لنگڑے جواز تراشے جا رہے ہیں جسے عوام قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ پالیسی سازوں نے اس بات کو نظر انداز کیا ہے کہ اس تبدیلی سے شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور پاکستان کی قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی میں رکاوٹ ہوگی۔















