کاز لسٹ کی منسوخی، ایسا کرنے کے بجائے میری عدالت کی بنیاد میں بارود رکھ کر اڑا دیتے: جسٹس اعجاز اسحٰق

islamabad high court

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے عدالتی حکم کے باوجود  بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی کازلسٹ منسوخ ہونے پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے وضاحت طلب  کرلی۔ دورانِ سماعت وکیل نیازی اللہ نیازی اور شعیب شاہین عدالت میں پیش  ہوئے۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز اسحاق خان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست کسی جج کی اجازت کے بغیر کیس لارجر بینچ کو منتقل کر سکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو انصاف کی بنیادیں کمزور کر دی جائیں گی۔

ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں چیف جسٹس آفس سے کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کی ہدایت ملی تھی، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو یہ اختیار نہیں کہ کسی جج کے زیر سماعت کیس کو اس کی مرضی کے بغیر منتقل کرے۔

جسٹس اعجاز اسحٰق نے ریمارکس دیے کہ اگر ریاست نے انا کی جنگ جیتنی ہے تو پھر عدالت کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انصاف کے اصولوں کو پامال کیا گیا تو عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔

شعیب شاہین نے کہا کہ اس کیس میں ریاست اور سپرٹینڈنٹ تو متاثرہ فریق بھی نہیں تھے، ہمیں کل کو کیا انصاف ملے گا، مشال یوسفزئی نے کہا کہ ہمارے ساتھ باہر یہ ہورہا ہے تو عمران خان اور بشری بی بی کے ساتھ جیل میں کیا کرتے ہونگے۔

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا کہ کیس منتقلی کے لیے یہ متفرق درخواست کس قانون کے تحت دائر کی گئی؟ کیا ریاست جج کی مرضی کے بغیر کیس لارجر بینچ کو منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہے؟

عدالت نے کیس کی کازلسٹ منسوخ اور دوسرے بینچ کو منتقل کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے بھی جواب طلب کر لیا، عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں

Scroll to Top