اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اگر مجھ سے مشورہ کرتی تو انہیں شرکت کا مشورہ دیتا، 1988 سے ملک سے وفاداری کا حلف اٹھا رہا ہوں، ملک ہے تو سب کچھ ہے۔یہ بات انہوں نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےکہی۔
ان کا کہنا تھا کہ متعدد بار اپنی تقاریر میں کہہ چکا ہوں کہ یا تو میرا استاد شہید ہے یا اس کو مارنے والا مجاہد، لیکن دونوں باتیں ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتیں، تاہم میں اپنے استاد کو شہید کہوں گا۔
جے یوآئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں، سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ریاست کی پالیسیوں میں تسلسل کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، افغانستان کے خلاف جنگ میں حصہ بننے کا نقصان پاکستان کو بھگتنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں اتحادی بننے کا فیصلہ غلط تھا۔












