جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی:اسرائیلی حملے میں غزہ کے 400 سے زائد فلسطینی شہید

gaza

غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں نے غزہ میں ایک بار پھر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق 400 سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں، یہ حملے اس وقت کیے گئے جب مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق حملے شمالی غزہ سے جنوبی علاقوں تک کیے گئے، جن میں رہائشی مکانات اور خیمہ بستیوں کو نشانہ بنایا گیا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 404 افراد شہید اور 562 زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے،مقامی افراد کا کہنا تھا کہ یہ حملے جنگ کے ابتدائی دنوں کی طرح شدید تھے۔

 اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیاہے،اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ حماس نے جنگ بندی کی توسیع کی تجاویز مسترد کیں، جس کے بعد حملے کا حکم دیا گیا۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے جنگ بندی کو سبوتاژ کیا اور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔

شمالی غزہ کے بیت حانون اور جنوبی علاقے خان یونس میں شہریوں کو انخلا کے احکامات جاری کیے گئے، لوگ ایک بار پھر پیدل، گاڑیوں اور رکشوں میں نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

مصر، قطر اور امریکا جو جنگ بندی کے مذاکرات میں شامل تھے، انہوں نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی،یورپی یونین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائیاں بند کرے اور حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی حملوں میں حماس کے کئی سینئر رہنما شہید ہوگئے، جن میں حماس حکومت کے سربراہ عصام عدلیس، نائب وزیر انصاف احمد الحتا اور سیکیورٹی خدمات کے سربراہ محمود ابو وفا شامل ہیں۔

مزید خبریں

Scroll to Top