امریکا اور یورپ کی بالا دستی کو لاحق خطرات سے کسی بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا

war

ایک عشرے سے بھی زائد مدت کے دوران امریکا اور یورپ کی بالا دستی کے لیے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ خطرناک اس لیے کہ اگر امریکا اور یورپ کو عالمی اداروں میں پنجے گاڑے رہنے سے روکنے کی بھرپور کوششوں کا آغاز ہوا تو معاملات انتہائی نوعیت کی خرابی کی طرف جائیں گے اور اِس کے نتیجے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر ایک عالمی جنگ میں الجھ جائے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک اس قدر خطرناک ہتھیار بنائے جاچکے ہیں اور جنگی ساز و سامان کی نوعیت ایسی ہے کہ بڑی طاقتیں آپس میں ٹکرانے سے واضح طور پر گریز کرتی آئی ہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا اور یورپ نے مل کر عالمی نظامِ سیاست و معیشت ترتیب دیا۔ یہ نظام چونکہ اُن کا بنایا ہوا تھا اِس لیے لازمی طور پر اُنہی کے مفادات کو تقویت بہم پہنچانے کے لیے تھا۔ امریکا اور یورپ نے مل کر کم و بیش آٹھ عشروں تک حکومت کی ہے اور اس دوران دنیا بھر کے خطوں کو لُوٹ کر اُن کے لیے خرابیاں پیدا کی ہیں۔ سوویت یونین کی شکل میں امریکا اور یورپ کے عزائم کی راہ میں ایک جیسی تیسی دیوار بہرحال حائل تھی۔ اس دیوار کو گرے ہوئے تین عشروں سے زائد مدت ہوچکی ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل نے امریکا کو واحد سپر پاور کی حیثیت فراہم کی۔ تب سے اب تک دنیا یک قطبی ہے یعنی تمام معاملات گھوم پھر کر امریکا ہی کے ہاتھ میں آجاتے ہیں۔

کم و ساڑھے ڈھائی عشروں تک امریکا اور یورپ کی بالا دستی کو چیلنج کرنے والے معاملات برائے نام رہے۔ چار عشروں سے ابھرنے کی بھرپور کوشش کرنے والا چین اب ایک عشرے سے امریکا اور یورپ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ دوسری طرف روس کو بھی اپنے عہدِ زریں کی بحالی کا خیال آیا ہے۔ اُس نے چین سے ہاتھ ملایا ہے اور چند ہم خیال ملکوں کو ساتھ لے کر دونوں ہی بڑے ممالک نئے عالمی نظام کی توضیع اور تنفیذ کی طرف چل پڑے ہیں۔ یہ سب کچھ مغربی طاقتوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور یہ بات اُن کی پالیسیوں میں پائی جانے والی بدحواسی سے ظاہر ہے۔ امریکا اور یورپ کو یہ فکر لاحق ہے کہ اگر چین اور روس اپنے ہم خیال ممالک کو ساتھ لے کر کوئی بلاک بنانے میں کامیاب ہوگئے تو طاقت کا توازن اُن کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ یورپ پر غیر معمولی دباؤ ہے کیونکہ وہ مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں۔ یوکرین جنگ نے اُس کی کمزوریوں کو مزید بے نقاب کردیا ہے۔ امریکا اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ یوکرین جنگ نے پورے یورپ میں شدید احساسِ عدمِ تحفظ کو جنم دیا ہے۔ وہ اب تک یورپ کے دفاع کا فریضہ انجام دیتا آیا ہے اور اِس کی بھرپور قیمت بھی اُس نے وصول کی ہے۔ اب امریکا یورپ کو بہت حد تک بلیک میل کرکے دفاعی فریضے کی زیادہ قیمت وصول کرنے کے موڈ میں ہے۔

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ چین اب تک عسکری مہم جُوئی سے گریزاں رہا ہے مگر دوسری طرف اُس نے اپنی طاقت میں بھرپور اضافے پر بھی توجہ دی ہے۔ چین بھی یورپ کی طرح نرم قوت پر یقین رکھتا ہے یعنی تکنیکی اور معاشی و مالیاتی استحکام کی مدد سے آگے بڑھنے کے موڈ میں ہے۔ وہ اس مرحلے پر کسی بھی نوعیت کی محاذ آرائی کے موڈ میں نہیں۔ امریکا نے بارہا کوشش کی ہے کہ چین کو کسی بڑے مناقشے میں الجھایا جائے۔ تائیوان کے معاملے میں بھی چین کو اُکسانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے مگر چین نے اب تک معاملات کو کنٹرول میں رکھا ہے۔

چین کے لیے اِس وقت ایک پلس پوائنٹ یہ ہے کہ روس بھی کچھ کر دکھانے اور کر گزرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں آچکا ہے۔ جن ممالک کو مغربی دنیا سے بہت زیادہ شکایات رہی ہیں وہ چین اور روس کی طرف جھک رہے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکا اور یورپ کے لیے بہت بڑے دردِ سر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ سفارتی اور اسٹریٹجک امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ بڑی طاقتیں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنی پالیسیوں میں توازن برقرار رکھیں۔ امریکا اور یورپ کو دنیا بھر کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی روش سے اب باز آجانا چاہیے اور حق تلفی کا سلسلہ ختم کردینا چاہیے۔

مزید خبریں

Scroll to Top