پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے کرپشن کی روک تھام کے لیے نیا قانون، ’’اینٹی کرپشن فورس ایکٹ‘‘ تیار کرلیا ہے، جو کسی بھی وقت کابینہ سے منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت وزیراعلیٰ سمیت وزراء، عوامی نمائندے، ارکان اسمبلی، بلدیاتی نمائندے، ویلج کونسل چیئرمین اور میئر بھی احتساب کے دائرے میں آئیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر انسداد رشوت ستانی بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی نے کہا ہےکہ موجودہ حکومت نے درجنوں بدعنوانی کے کیسز کی تحقیقات کی ہیں، جن میں 17 کروڑ روپے مالیت کے گندم اسکینڈل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور اس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ 4 ارب روپے کے ادویات اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں، جن میں سے 2 ارب روپے کی چھان بین مکمل کرلی گئی ہے، نگراں حکومت کرپشن کے کئی معاملات چھوڑ کر گئی ہے، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
مشیر انسداد رشوت ستانی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے کرپشن کے خاتمے کے لیے تعلیمی میدان میں بھی اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اسکولوں کے نصاب میں اسلامی تاریخ اور عربی زبان شامل کی جا رہی ہے،ہر اسکول میں لائبریری لازمی قرار دی جا رہی ہے،ہر یونیورسٹی میں اقبال چیئر کا قیام لازمی ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر چھ ماہ بعد یونیورسٹیوں میں کردار سازی کے سیمینار منعقد کیے جائیں گے،محکموں میں امر بالمعروف کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
مشیر انسداد رشوت ستانی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے نیب ایکٹ میں ترامیم کرکے نیب کو تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے،وائٹ کالر کرائم کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے،میں نے 13 سال نیب میں خدمات انجام دی ہیں، اور میں جانتا ہوں کہ نئے قانون نے نیب کی اہمیت ختم کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے اینٹی کرپشن فورس ایکٹ 2025ء مکمل طور پر تیار کرلیا ہے، جسے جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اس ایکٹ کے تحت پہلی بار وزیراعلیٰ، وزراء اور عوامی نمائندے بھی احتساب کے لیے پیش ہوں گے۔














