امریکی فوج کے متعدد حملوں میں یمن کے 31 حوثی جنگجو جاں بحق، ایران کو بھی انتباہ

Attack

امریکا نے یمن کی حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ رات گئے کیے جانے والے میزائل حملوں میں 31 جنگجو جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ یمن کی حوثی ملیشیا کی حمایت اور امداد ترک کردے کیونکہ اُسے ختم کرنے کا وقت آچکا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کو لاحق ہونے والے کسی بھی خطرے کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔

بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی اور جنگی جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں امریکا نے اب حوثی ملیشیا کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کیے جانے والے حملوں میں میزائل بھی داغے گئے اور بمباری بھی کی گئی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر حوثی ملیشیا نے حملے بند نہ کیے تو امریکی فوج اُسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

ایران ایک زمانے سے یمن کے جنگجوؤں کی حمایت اور مدد کرتا آیا ہے۔ امریکا نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اُس نے حوثی ملیشیا کی حمایت اور مدد ترک نہ کی تو اُس کے ہاتھوں ہونے والی کسی بھی تباہی کے لیے ایرانی قیادت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اِس کے بعد جو کچھ بھی ہوگا وہ اچھا نہیں ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ ایک پیغام میں حوثی ملیشیا سے کہا ہے کہ تمارا وقت اب ختم ہوچکا ہے۔ اگر حملے نہ ہوئے تو تمہیں ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا تم نے تصور بھی نہ کیا ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بتایا ہے کہ امریکا نے ایران کو ایٹمی معاملات پر مذاکرات کے لیے رضامند کرنے کی خاطر اقتصادی پابندیاں سخت تر کردی ہیں اور حوثی ملیشیا پر حملے بھی اِسی حکمتِ عملی کے تحت ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ یمن میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ حوثی ملیشیا نے اِن حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر مرحلے میں اور ہر مقام پر بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ امریکی وزیرِدفاع پیٹ ہیجسیتھ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ امریکی جہازوں، طیاروِں اور فوجیوں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ایران بھی اب نوٹس پر ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top