“فلڈ لائٹنگ” تعلقات کو بہت تیزی سے لے ڈوبتی ہیں، ماہرینِ عمرانیات

Flood-lighting

رات کے وقت کسی مقام کو روشن کرنے کے لیے غیر معمولی طاقت کے بلب استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ میچوں میں ہم اِس تجربے کو بہت عمدگی سے بروئے کار لاتا ہوا دیکھتے ہیں۔ روشنی سے ماحول کو نہلا دینے کے عمل کو فلڈ لائٹنگ کہتے ہیں۔ گویا روشنی کا سیلاب آگیا ہو۔

عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرتی تعلقات میں بھی بعض اوقات فلڈ لائٹنگ ہوتی ہے اور یہ بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سماجی علوم سے متعلق تحقیق سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ آپس کے تعلقات میں فاصلے رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں صرف خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

ماہرینِ عمرانیات و نفسیات کہتے ہیں کہ نجی تعلقات میں اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ خالص ذاتی معاملات کو کہاں تک شیئر کیا جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ سماجی تعلقات میں لوگ جب ہم خیال افراد سے ملتے ہیں تو گرم جوشی قابلِ دید ہوتی ہے۔ ہم مزاج افراد کے ساتھ بیٹھنا، وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے۔ بس یہی معاملہ احتیاط کا طالب ہے۔ اگر کوئی شخص اچھا لگتا ہے، اُس کے ساتھ وقت گزارنے میں لطف محسوس ہوتا ہے تو انسان بے اختیار ہوکر، تحت الشعوری طور پر یا بے دھیانی میں اپنے بہت سے ذاتی معاملات کو بھی زبان پر لانا شروع کردیتا ہے۔

سماجی تعلقات میں جب لوگ اپنے ذاتی معاملات کو بہت تیزی سے بہت زیادہ شیئر کرنے لگتے ہیں تو ایسی کیفیت کو فلڈ لائٹنگ کہا جاتا ہے۔ انسان اپنے دل کی بات بہت سوں سے کہنا چاہتا ہے مگر اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی ہر بات لازمی طور پر کہہ دی جائے۔ ایسا کرنے سے معاملات طشت از بام ہونے لگتے ہیں۔ انسان کو تعلقات کی بہتر نوعیت دیکھتے ہوئے بھی بہت محتاط رہتے ہوئے بات کرنی چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کسی کو بھی اپنا نہ سمجھے اور اپنے دل کی بات نہ بتائے مگر لازم ہے کہ اس حوالے سے حدود کا تعین کیا جائے اور اُن حدود کا احترام بھی کیا جائے۔ ہر بات سب کو یا کسی کو بتانے والی نہیں ہوتی۔ جو کچھ دل میں ہے وہ سب کا سب کسی کے سامنے رکھ دینا دانش مندی کی علامت نہیں۔

سماجی تعلقات میں اِس بات کی بہت اہمیت ہے کہ انسان اپنی حدود کو پہچانے، یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ کسی بھی معاملے میں کہاں تک اور کیوں جانا ہے۔ سماجی تعلقات کی نوعیت کاروباری، پروفیشنل اور دیگر تعلقات سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس حوالے سے بہت سوچنا پڑتا ہے۔ اور سوچنا ہی چاہیے۔

مزید خبریں

Scroll to Top