وفاقی وزیر مذہبی امور کا نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر احتیاط برتنے کا مشورہ

سوشل میڈیا کیسے نوجوانوں میں کھانے پینے کی خرابی پیدا کررہا ہے؟

اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اوقات لاعلمی میں نوجوان ایسے مواد کو شیئر کر دیتے ہیں جو توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی عزت و حرمت تمام مذاہب کے نزدیک مسلمہ حقیقت ہے، اور توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے اس جرم کی سزا عمر قید یا سزائے موت میں سے کوئی ایک ہو سکتی تھی، مگر نواز شریف کی سابقہ حکومت میں ان کی پیش کردہ ترمیم کے بعد اب اس کی واحد سزا سزائے موت مقرر کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے “اسلاموفوبیا ڈے” منانے کے اعلان کے بعد پاکستان ہر سال عالمی یوم تحفظ ناموس رسالت مناتا ہے۔ اس ضمن میں وزارت مذہبی امور نے تمام صوبوں کو خطوط بھی ارسال کیے ہیں تاکہ اس دن کو مناسب طریقے سے منایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض شرپسند عناصر توہین مذہب کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ایسی شکایات وزارت مذہبی امور کے پورٹل پر درج کروائی جا سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرنے سے قبل اس کے مضمرات کا مکمل ادراک کریں، کیونکہ توہین آمیز مواد شیئر کرنے والے افراد کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، والدین پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ نادانستہ طور پر کسی غیر مناسب مواد کا حصہ نہ بن جائیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ توہین صحابہ و اہل بیت بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہو چکا ہے، اور اس وقت صدر مملکت کے پاس منظوری کے لیے موجود ہے۔

خیال رہےکہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور توہین مذہب کے واقعات پر مختلف حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Scroll to Top