بولان: کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن مکمل کر کے تمام یرغمالیوں کو بازیاب کرالیا، موقع پر موجود تمام دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ختم کرکے یرغمال مسافروں بشمول عورتوں اور بچوں کو بازیاب کروایا، کلیئرنس آپریشن میں انتہائی احتیاط اور مہارت کا مظاہرہ کیا گیا تاکہ معصوم جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے، تاہم کچھ مسافروں کے جانی نقصان کی اطلاعات ہیں جن کی حتمی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے خودکش بمباروں کو یرغمالی مسافروں کے قریب بٹھا رکھا تھاجوخودکش جیکٹس پہنے ہوئے تھے، اس کے باوجود سکیورٹی فورسز نے کامیاب حکمت عملی کے ذریعے تمام یرغمالیوں کو محفوظ نکالا۔
ٹرین کی بحالی اور نقل و حرکتگزشتہ رات سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں ایک مال بردار ٹرین کے ذریعے مسافروں کو مچھ ریلوے اسٹیشن پہنچایا گیا، جب کہ دیگر بازیاب افراد کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فورسز نے 27 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا ہے،دہشتگرد اپنے بیرون ملک ہینڈلرز سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے رابطے میں تھے اور فورسز کے دباؤ کے باعث چھوٹی ٹولیوں میں بٹ گئے تھے، اس کے باوجود اضافی نفری کی مدد سے فورسز نے دہشتگردوں کا گھیرا تنگ کر کے کارروائی کو مکمل کیا۔
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی اور اس میں 400 سے زائد مسافر سوار تھے، ٹرین گزشتہ روز منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی اور پشاور جا رہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔
خیال رہےکہ دہشتگردوں نے خواتین اور بچوں کو انسانی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا تھا، اس سے پہلے 190 مسافروں کو بحفاظت نکالا جاچکا تھا، جس میں 58 مرد، 31 عورتیں اور 15 بچے شامل تھے جبکہ 17 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔















