بلوچستان بدامنی و دہشت گردی کا ڈھیر بن گیا ، سراج الحق

75

لاہو ر (نمائندہ جسارت)سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت وزیراعلیٰ ہائوس تک محدود ہو گئی، صوبہ اس وقت قابل رحم ہے، بلوچستان کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا، نعرے ضرور لگائے گئے کہ صوبہ گیم چینجر بنے گا، لیکن پاکستان کے دشمنوں نے گیم الٹ دی۔بلوچستان اس وقت شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مدرسہ ریاض العلوم ژوب بلوچستان میں تکمیل قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان حافظ نور علی، عبدالحمید منصوری، امیر جماعت اسلامی ژوب فہد احمد اور مہتمم مدرسہ ریاض العلوم مولانا امان اللہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان حکومت جواب دے کہ پنجاب کے مزدوروں کو ناحق قتل کیوں کیا جا رہا ہے، مرکزی و صوبائی حکومت معاملات چلانے میں مکمل ناکام ہیں، ایک طرف مہنگائی دوسری طرف بے روزگاری اور تیسری طرف باڈروں پر ٹینشن ہے، بلوچستان بدامنی و دہشت گردی کا ڈھیر بن گیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اچھل کود کر رہی ہیں، بلوچستان کے عوام کی حالت نہیں بدل سکی، لیکن یہاں کے حکمران اور سردار بہترین حالات میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل پر عوام کا حق ہے، لیکن یہاں کے عوام نعمتوں سے محروم ہیں۔ چاروں طرف کرپشن اور اندھیر نگری کا چوپٹ راج ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، جماعت اسلامی نے ہمیشہ بلوچستان کے لیے آواز اٹھائی ہے۔