پنجاب اسمبلی میں انسداد گداگری قانون میں ترامیم پیش، سخت سزائیں متعارف

109

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں گداگری کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے انسداد گداگری قانون میں ترامیم پنجاب اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق  ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہےکہ ان ترامیم کا مقصد پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سرغنوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے،ترمیمی بل کے تحت پنجاب میں کسی بھی شخص سے بھیک منگوانا ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔ اگر کوئی شخص دوسروں سے بھیک منگوانے میں ملوث پایا گیا تو اسے تین سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

مزید سخت سزائیں اور بھاری جرمانے

قانون میں مزید سختی لاتے ہوئے درج ذیل سزائیں تجویز کی گئی ہیں:

1. ایک سے زائد افراد سے بھیک منگوانے والے افراد کو تین سے پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا مستحق ہوگا۔

2. بچوں سے بھیک منگوانے والے عناصر کو پانچ سے سات سال قید اور سات لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید ایک سال قید کی سزا دی جائے گی۔

3. کسی بچے یا بڑے کو جبری معذور کرکے بھیک منگوانے والے کوافراد کو اس گھناؤنے جرم میں سات سے دس سال قید اور بیس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو گینگ کے سرغنہ کو مزید دو سال قید بھگتنا ہوگی۔

4. جرم دہرانے کی صورت میں دگنی سزا دی جائے گی، اگر کوئی شخص ایک بار سزا پانے کے بعد دوبارہ یہی جرم کرتا ہے تو اسے قانون میں دی گئی سزا سے دگنی سزا اور دگنا جرمانہ ہوگا۔