کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ زمینوں پر قبضوں اور جائداد سے متعلق اربوں روپے کے ہزاروں مقدمات ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، اس مسئلے پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو مدعو کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ مہمان خصوصی سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سرفراز علی میتلو نے کہا کہ جائیداد کے مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے جائیداد کے تمام مقدمات مقامی عدالتوں میں منتقل کرائے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے آبادہاؤس کا دورہ کیا ،وفد میں بار کے سابق صدر سلیم منگریو اوردیگر عہدیدارن شامل تھے۔ اس موقع پرآباد الائیڈ پینل کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی، آباد کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،آباد کے سابق سینئر وائس چیئرمین اور آباد لیگل کمیٹی کے کنوینر ابراہیم حبیب اور آباد ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں سب سے زیاد جائیداد اور زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے مقدمات دائر ہیں لیکن برسوں گزر جانے کے باوجود شنوائی نہیں ہوتی۔ حسن بخشی نے کہا کہ عدالتوں میں انصاف لینے جاتے ہیں لیکن حکم امتناع ہوجاتا ہے۔دوسری جانب وکیل بھی زمینوں کے کیسوں کی پیروی کے لیے بھاری بھرکم فیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس موقع پر سرفراز علی میتلو نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کے تعداد محدود ہونے کے باعث 25 سے 30 ہزار کیسز کی شنوائی ہائی کورٹ کے بس کی بات نہیں ہے،دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کے ججز غیر کاروباری ہوتے ہیں اس لیے کاروباری مقدمات التوا کاشکار ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے زمینوں کے زیر التوا کیسز کومقامی عدالتوں میں منتقل کرایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی منتقلی کا مقصد جلد فیصلے حاصل کرنا ہے۔ سول جج اور ڈسٹرکٹ سیشن جج کی شنوائی سے کیس کا دورانیہ کم اور فیصلہ جلد ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چھوٹی عدالتوں میں جائداد کی کیسز ایک سال میں حل ہوسکتے ہیں مگر ہائی کورٹ میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ سرفراز علی متلو کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹس میں ججز کی کارکردگی جانچنے کے لیے آئین میں کوئی قانون موجود نہیں ہے جبکہ ما تحت عدالتوں میں احتساب کا عمل ہوتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرن ان چیف محسن شیخانی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے جائداد اورزمینوں پر قبضوں کے مقدمات مقامی عدالتوں میں منتقل ہونا خوش آئند ہے مگر منتقلی فوری طور پرہونی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی سے مایوس ہیں، جائدادسے متعلق شکایات کے باوجود اینٹی کرپشن کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہورہی۔کچی آبادیوں کو باضابطہ سوسائٹی بنارہے ہیں۔ اس حوالے سے مئیر کراچی اور آباد کے درمیان اگلے ہفتے مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں سیاسی مقدمات کے علاوہ زمینوں پر تجاوزات کے کیسز کی سماعت نہیں ہورہی ہے۔معاشرے کی بہتری کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں آباد کے سابق سینئر وائس چیئرمین ابراہیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ زمینوں پر قبضوں اور جائداد کے مقدمات کی سندھ ہائی کورٹ کی منتقلی کے مثبت نتائج برآمدہوں گے۔ انھوں نے وکلا رہنماؤں سے مقدمات کی منتقلی کے بارے میں رہنمائی کی اپیل کی۔ اس موقع پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سلیم منگریو نے بھی خطاب کیا۔