حافظ نعیم الرحمن کا جرأت مند خطاب!

305

29 دسمبر 2024ء کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں جماعت اسلامی کا غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے غزہ ملین مارچ ہو رہا تھا۔ یہ مارچ جماعت اسلامی آب پارہ سے ڈی چوک تک کرنا چاہتی تھی مگر نہ جانے کیوں حکومت کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں۔ حالانکہ اس سے قبل آب پارہ اور ڈی چوک میں بھی بڑے بڑے جلسے اور مارچ ٗکشمیر اور فلسطین کے حوالے سے ہوتے رہے ہیں۔ بہر حال اس مرتبہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد انتظامیہ کے رویہ میں تبدیلی صاف نظر آرہی تھی۔ بالآخر بڑی لیت و لعل کے بعد آخری دن ایف نائن پارک میں جلسہ کی اجازت دی گئی۔

حافظ نعیم الرحمن پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ اُردو اُن کی مادری زبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بات کرنے اور اس کے معنی و مفہوم سمجھانے کا سلیقہ اور قرینہ بھی عطا کر رکھا ہے۔ زبان کی شیرینی اور چہرے پر تبسم اُن کی پہچان ہے۔ وُہ لہجے کے اُتار چڑھائو اور نرمی و شائستگی کے آداب کو بھی بخوبی جانتے ہیں۔ جب امیر جماعت اسلامی کراچی تھے تو ٹی وی چینلوں پر کراچی کے حوالے سے ہونے والے مذاکروں اور دیگر پروگراموں میں اچھی تیاری کے ساتھ جاتے تھے۔ درست اعداد وشمارکے ساتھ ساتھ زیر بحث مسئلے اور معاملے کے ماضی و حال اور ہر ہر پہلو پر مدلل گفتگو ان کا خاصہ تھا۔ کسی بھی مسئلے پر جب حافظ نعیم الرحمن بولتے تو دوسرے افراد کے منہ کھلے کے کھلے رہ جاتے اور وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہ جاتے۔

جب امیر جماعت اسلامی پاکستان بن گئے تو اُن کی قیادت میں راولپنڈی کا دھرنا بہت مشہور ہوا۔ دھرنے کی کامیابی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو حکومت جماعت اسلامی کے دھرنے کو معمولی سمجھ رہی تھی اور بات چیت سے گریزاں تھی۔ دھرنے میں عوام کی غیر معمولی شرکت اور جوش و خروش کی خبریں اور سرکاری ایجنسیوں کی رپورٹوں پر حکومت کو مجبور ہو کر جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کرنا پڑا اور خود وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات اور دیگر وزراء نے دھرنے کے مقام پر آ کر بات چیت کا آغاز کیا۔ جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات حکومت کے حوالے کیے۔ تین چار ملاقاتوں کے بعد دھرنے کے مقام پر ہی معاہدہ طے پا گیا۔ جس میں حکومت نے ڈیڑھ ماہ کا وقت مانگا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ سب سے بڑا مسئلہ آئی پی پیز کا تھا کہ جو سالانہ اربوں روپے قومی خزانے سے وصول کر رہی تھیں اور اس کے بدلے میں طے شدہ معاہدے کے مطابق بجلی کی پیداوار نہیں تھی۔ جانچ پڑتال کا بھی کوئی نظام نہیں تھا۔ حافظ نعیم الرحمن نے جب ان آئی پی پیز کے ناموں کا اعلان کیا اور قوم کو ان سے کیے گئے معاہدوں کی تفصیلات بتائیں تو لوگ حیران رہ گئے۔ بڑے بڑے دانشور، لکھاری اور صحافی بھی آئی پی پیز کے معاہدوں اور اُ ن پر عملدرآمد کی تفصیلات سے بے خبر تھے۔ یہ کریڈٹ جماعت اسلامی کی تحقیقاتی کمیٹی کو جاتا ہے کہ اُس نے ایک ایک کمپنی کے ساتھ معاہدے، اس کی جملہ تفصیلات اور اب تک ہونے والے حاصل وصول اور قومی خزانے کو پہنچنے والے اربوں روپے کے نقصانات کی تفصیلات کھول کھول کر سامنے رکھ دیں۔ اب حکومت اور آئی پی پیز کے لیے بھاگنے اور راہ فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ حکومت کو جماعت اسلامی کا موقف تسلیم کرنا پڑا۔ اب تک متعدد آئی پی پیز کے ساتھ حکومت نے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا ہے۔ جس سے سالانہ اربوں روپے کا قومی خزانے کو فائدہ ہوگا۔ تاہم حافظ نعیم الرحمن حکومت سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ آئی پی پیز سے جو معاہدے Re visit ہوئے ہیں۔ ان کا فائدہ بھی عوام کو پہنچنا چاہیے۔

اب آتے ہیں حافظ نعیم الرحمن کے اسلام آباد میں غزہ ملین مارچ میں بے باک خطاب کی طرف۔ حافظ نعیم الرحمن کے مطالبے اور تجویز پر چند ہفتے پہلے اسلام آباد میں کل جماعتی غزہ کانفرنس ہوئی تھی۔ جس میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی تھی۔ البتہ تحریک انصاف نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اورکہا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھتے۔ مگر بعد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ بھی گئے اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کمیٹی بھی بنا دی اور پھر مذاکرات مذاکرات کا کھیل بھی شروع ہو گیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں صدر ہائوس میں ہونے والی غزہ کانفرنس میں تجویز کردہ اقدامات اور اعلانات پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کو یاد دہانی کروائی کہ اس سلسلے میں کوئی واضح کام نظر نہیں آیا۔ انہوں نے حکومت، مقتدر حلقوں اور متعلقہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کے مظلوموں کے خلاف ظلم و تشدد اور نسل کُشی کے حوالے سے کوئی واضح اور ٹھوس موقف سامنے نہیں آیا۔ عالمی سطح پر جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں، اُن پر بھی کوئی توجہ نہیں ہے۔ صرف زبانی کلامی بیانات اور قرار دادیں اس سنگین مسئلے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی کے دوستوں سے شکوہ کیا کہ وہ باقی تو سارے کام اڈیالہ جیل کے ریموٹ کنٹرول سے کر رہے ہیں۔ مگر ایک غزہ پر اسرائیلی بمباری اور وہاں نسل کشی کی مذمت تک نہیں کر رہے۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو جنگی قیدی اس کے حلف اُٹھانے سے پہلے رہا کرنے کی جو دھمکی دی ہے، اس کی ابھی تک مذمت بھی نہیں کی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن ملک کی ایک بڑی دینی و سیاسی جماعت کے امیر ہیں۔ جماعت اسلامی ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل اور معاملات کے حوالے سے اپنا ایک واضح بیانیہ اور موقف رکھتی ہے۔ اسے کسی جماعت یا تنظیم سے ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی کسی جماعت کی ذیلی تنظیم یا شاخ ہے کہ وہ اپنی آزاد پالیسیاں نہیں بنا سکتی۔ اُسے اپنی بات کرنے اور دوسروں تک اپنی بات پہچانے کا حق حاصل ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا پی ٹی آئی والوں کو سخت ناگوار گزرا ہے۔ حافظ صاحب نے تو اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کی بات کی تھی، مگر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پرکام کرنے والے حافظ نعیم الرحمن کی مذمت میں لگ گئے۔ پی ٹی آئی کی گالم گلوچ یوتھیا بریگیڈ نے اپنی توپوں کا رُخ حافظ نعیم اور جماعت اسلامی کی طرف کر دیا ہے۔ یہ بات تو پہلے ہی اظہر من الشمس تھی مگر اب تو کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت امریکا سے ساری اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ پہلے کہتے تھے کہ ہماری حکومت امریکا نے ختم کروائی ہے۔ اس سلسلے میں وہ سائفر لہرایا کرتے تھے اور اس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ اُس وقت بقول اُن کے جنرل باجوہ ان پر مہربان تھے اور وہ جنرل باجوہ پر واری صدقے ہوتے تھے۔ موصوف بار بار یہ اعلان کرتے تھے کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں۔ اب وہ جنرل باجوہ پر اپنی حکومت گرانے کا الزام دھرتے ہیں۔ اُ ن کے یہی یو ٹرن اور بدلتے ہوئے موقف ان کی کمزوری ہیں۔

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی والوں نے جو اودھم مچایا اور اپنی خرافات اور واہیات پورے زور و شور کے ساتھ اپنا فریضہ سمجھ کر اُگل دیں تو پھر جماعت اسلامی کے افراد نے بھی جوابی حملے اور وار شروع کیے۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگوں نے عام طور پر تہذیب و شائستگی اور ادب و احترام کے دامن کو تھامے رکھا۔ کسی کی ذاتیات پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ دلیل کے ساتھ بات کی گئی اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے اصل بیان کو سامنے رکھ کر اُ ن کے سوال کو دُھرایا گیا کہ اس میں کیا قباحت ہے؟۔ مگر افسوس کہ تحریک انصاف کے افراد نے اصل سوال کا جواب دینے کے بجائے گالیوں اور طعن و تشنیع کا سلسلہ جاری رکھا۔ چند دن کے اس بحث مباحثے کے بعد اب پی ٹی آئی کے لوگوں کے پاس کہنے کو اور کچھ بچا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی طرف سے ناتراشیدہ الفاظ کی گولہ باری کا سلسلہ اب کچھ کم ہو گیا ہے۔ در ایں اثناء پی ٹی آئی کے کچھ سنجیدہ فکر افراد کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ جن میں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا کے افراد کو حافظ نعیم الرحمن کے خلاف مہم کو افسوسناک قرار دیا اور اس سلسلے کو ختم کرنے کا کہا ہے۔ جن نمایاں شخصیات کے بیانات سوشل میڈیا پر نظر سے گزرے ہیں اُن میں سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، علی محمد خان اور دیگر شامل ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے میڈیا پر کام کرنے والے اپنے رہنمائوں کی بات پر کتنا عمل کرتے ہیں یا وہ اپنا سلسلہ جاری رکھیں گے۔