مرد مجاہد حافظ عبدالرحمن مکی مرحوم

510

نامور عالم دین، جہاد کلچر کے پُرجوش مبلغ اور کالعدم جماعتہ الدعوۃ کے سیاسی شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی 27 دسمبر بروز جمعہ صبح کے وقت لاہور میں انتقال کرگئے۔ انااللہ وانالیہ راجعون۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کافی عرصے سے بیمار چلے آرہے تھے، یہی بیماری ان کے لیے موت کا بہانا ثابت ہوئی۔ ان کے قریبی ساتھی ڈاکٹر ناصر ہمدانی جو نزع کے وقت ان کے قریب موجود تھے، بتاتے ہیں کہ حافظ مکی صاحب نے آخری الفاظ یہ ادا کیے ’’مجھے لینے والے آگئے ہیں‘‘ پھر کلمہ شہادت پڑھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کردی، رہے نام اللہ کا! پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے سعودی یونیورسٹی ام القریٰ میں تعلیم حاصل کی، ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اور وہیں ایک طویل عرصہ تک پڑھاتے بھی رہے۔ وہ 1995ء میں پاکستان آئے اور جہادی تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ ہوگئے، جو اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جہاد کر رہی تھی اور پاکستان میں بھی اس پر کوئی پابندی نہ تھی، مجاہدین کی کئی اور تنظیمیں بھی سرگرم عمل تھیں، کشمیری مجاہدین کی تنظیم حزب المجاہدین آزاد کشمیر سے آپریٹ کررہی تھی، سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت تو کی تھی لیکن اسے افغان مجاہدین کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا تھا۔ ان حالات میں مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت پر لرزہ طاری تھا وہ کشمیری اور ان کے ہم نوا مجاہدین کا بھارتی افواج پر غلبہ دیکھ رہا تھا اس امکانی صورت حال نے بھارت کو حواس باختہ کررکھا تھا ایسے میں حافظ عبدالرحمن مکی نے جہاد کشمیر کا ابلاغی محاذ سنبھالا تو ان کے دبنگ اور بے خوف لہجے نے بھارت، اسرائیل اور ان کے سب سے بڑے ہم نوا امریکا پر لرزہ طاری کردیا۔ مکی صاحب پاکستان میں گرجتے لیکن اس کی گونج بھارت اور اسرائیل میں سنائی دیتی اور امریکا واشنگٹن میں اس کا نوٹس لیتا۔

حالات بڑی حد تک مجاہدین کشمیر کے حق میں سازگار جارہے تھے کہ اچانک 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک کی بلند ترین تجارتی و کاروباری عمارت ’’ٹوئن ٹاورز‘‘ ایک پُراسرار فضائی حملے میں زمیں بوس ہوگئی۔ عمارت میں موجود دو ڈھائی سو افراد مارے گئے۔ امریکا نے اس حملے کا الزام اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ پر لگا کر کسی وارننگ کے بغیر افغانستان پر حملہ کردیا۔ واضح رہے کہ سوویت یونین افغانستان میں عبرتناک شکست سے دوچار ہو کر پسپا ہوچکا تھا، امارتِ افغانستان پر افغان طالبان کی حکومت تھی اور اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ افغانستان کی تعمیر نو میں افغان حکومت کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ امریکا نے کسی ثبوت کے بغیر اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، طالبان حکومت نے انکار کردیا، چنانچہ امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوگیا۔ اس وقت پاکستان پر جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی اس نے امریکی وزیر خارجہ کی ایک ٹیلی فون کال پر افغانستان پر حملے کے لیے پاکستان کے تمام بری، بحری اور فضائی وسائل امریکا کے حوالے کردیے۔ امریکا بیس سال تک ان وسائل کو استعمال کرتا رہا لیکن اس کے باوجود وہ افغانستان پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ بالآخر اسے افغانستان افغان طالبان کے حوالے کرنا پڑا۔ البتہ امریکا نے نائن الیون کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی مسلح جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے دیا اور جنرل پرویز مشرف کے ذریعے تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگوادی۔ لشکر طیبہ پر بھی پابندی لگ گئی، حافظ محمد سعید نے اس کی جگہ ایک غیر جہادی دینی و تبلیغی تنظیم جماعۃ الدعوۃ قائم کی اور اس کے تحت اپنی دینی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے دعوت وارشاد کا شعبہ سنبھال لیا لیکن امریکا کو یہ سرگرمیاں بھی پسند نہ آئی، اس نے جماعۃ الدعوۃ پر بھی پابندی لگوادی اور حافظ سعید کو زیر حراست لے لیا گیا۔ جبکہ حافظ عبدالرحمن مکی کو اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی نے بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے دیا۔ امریکا، بھارت اور اسرائیل نے ان کے سر کی قیمت بھی مقرر کررکھی تھی۔ وہ حافظ سعید کے بہنوئی تھے۔

حیرت انگیز اور قابل افسوس بات یہ ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے مکی صاحب کے انتقال کی خبر نشر و شائع نہ کی لیکن یہ خبر پَر لگا کر فوراً بھارت و اسرائیل پہنچ گئی اور ان کا میڈیا جمعہ کو سارا دن نمک مرچ لگا کر اسے نشر کرتا اور اس پر خوشی کا اظہار کرتا رہا کہ ان کا ایک بدترین دشمن اور بین الاقوامی دہشت گرد اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی اگرچہ مسلکاً اہل حدیث تھے لیکن تمام مسلمان فرقوں کے درمیان اتحاد کے داعی تھے اور امت ِ واحدہ کے نظریے کے علمبردار تھے، وہ غیر اہل حدیث مساجد میں خطبے کے لیے مدعو کیے جاتے اور بڑے شوق سے یہ دعوت قبول کرتے تھے۔ مریدکے میں نماز جمعہ کے بعد جنازہ پڑھا گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ دین کے لیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے (آمین)۔