اردو کا یہ محاورہ اس وقت بولا جاتا ہے جب انتہائی قریبی تعلق کو بیان کرنا مقصود ہو۔ جب تعلق بہت زیادہ قریبی ہو تو انسان کی سوچ بھی اپنے دوست کی سوچ جیسی ہوجاتی ہے پسند اور ناپسند کا معیار بھی ایک ہوجاتا ہے وہ دوسروں سے بات بھی کرے گا تو اپنے دوست کی مثالیں دے گا۔ جب انسان کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو محبوب کے سو عیب اس کو نظر نہیں آتے اور ایک خوبی بہت بڑی نظر آتی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کیا فرمایا ملاحظہ فرمائیے ’’تاریخ میں پہلی بار ہماری فوج کے سپہ سالار یک جان دوقالب کی طرح جڑے ہیں‘‘۔ وزیر اعظم صاحب کا حافظہ کمزور ہے یا مطالعہ کمزور ہے۔ یہ یک جان دوقالب کی کہانی قائد اعظم کی زندگی کے آخری ایّام ہی سے شروع ہوجاتی ہے۔ یہ تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا بلکہ وطن عزیز میں اکثر ہوتا یہی رہا ہے۔ قائد اعظم ایک جمہوری آدمی تھے گویا وہ آئین و قانون کے عاشق تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان کی تمام تر جدوجہد قانونی اور آئینی طریقے پر عوام کو ساتھ ملا کرکی تھی اور پاکستان حاصل کیا تھا آپ جانتے تھے کہ ریاست اگر ترقی کرے گی تو وہ جمہوری راستے سے کرے گی یہی وجہ تھی کہ فوج کی سیاست میں مداخلت ان کو انتہائی ناگوار تھی ایوّب خان کے رویّوں اور ملاقاتوں سے جب انہوں نے محسوس کیا کہ یہ اپنے فرائض منصبی سے زیادہ سیاسی امور میں دلچسپی لیتا ہے تو وہ اس بات پر سخت ناراض ہوئے اور اس کا برملا اظہار فرمایا ایک ملاقات کے بعد عشائیہ تھا مگر جب ایوّب خان کے سیاسی رجحانات کو دیکھا تو سخت ناراض ہوئے اور کھانا کھائے بغیر واپس چلے گئے۔ قائد اعظم فوج کے سیاسی کردار کے سخت خلاف تھے۔ ایوّب خان نے عوامی حکومت کا خاتمہ کرکے اقتدار پر قبضہ بعد کیا مگر وہ کئی سال سے امریکی اعلیٰ عہدے داروں سے رابطے میں تھے ان کی نیت اقتدار پر ریجھ چکی تھی وہ تاحیات پاکستان پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ امریکا کو اپنی وفاداری کا یقین دلارہے تھے وہ بتا رہے تھے کہ پاکستان کے سیاسی رہنما اس قابل نہیں ہیں کہ وہ پاکستان میں اقتدار سنبھال سکیں گے یہ عوامی نمائندے پاکستان کو سیاسی بحران میں مبتلا کردیں گے اور فوج انہیں ایسا کرنے نہیں دے گی۔ پاکستان پر تاحیات حکمرانی کا خواب تو ان کا پورا نہیں ہوسکا مگر وہ اس ادارے کو جس کا کام محض ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اس کو اس ملک پر حکمرانی کی چاٹ لگا کرچلے گئے اس کے لیے مختلف نرسریاں قائم ہوگئیں جن میں سیاسی رہنماؤں کی تربیت کرکے ان کو پروان چڑھایا جانے لگا کون نہیں جانتا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ کے وزیر تھے، میاں محمد نواز شریف جنرل ضیاء الحق کی نرسری میں پروان چڑھے، الطاف حسین کو کراچی میں مسلط ضیاء الحق نے کیا اس کے بعد عمران خان کو حیرت انگیز طور پر 2018 کے الیکشن میں کامیاب کروا کر اقتدار تک پہنچایا اور اب پورے پاکستان میں عمران خان کو اور کراچی بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو ہرا کر فارم سینتالیس پر من پسند نتائج بنا کر پی ڈی ایم کو اقتدار تک پہنچا دیا گیا ہے۔
جن نرسریوں کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ان نرسریوں سے جتنے افراد تیار کرکے اپنی ضرورت کے تحت اقتدار تک پہنچائے گئے وہ تو ظاہر ہے کہ اپنی وفاداریاں ان ہی سے وابستہ رکھیں گے اور اسی میں ان کی خیر ہے۔ آج یک جان دوقالب کی باتیں میاں شہباز شریف کررہے ہیں ماضی میں خان صاحب ہر ہفتے یہ بیان دیا کرتے تھے کہ ان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے بالکل اسی طرح شہباز شریف کے برادر خرد بھی یہی ورد کیا کرتے تھے کہ ان کی حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ جنرل جیلانی نے شریف صاحب کے سر پر بیرے والی ٹوپی رکھ دی تو انہوں نے اس بات کا برا بالکل بھی نہیں منایا۔ دستور کی بالا دستی کا درس دینے والے یہی لوگ سب سے زیادہ دستور کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرح شاید کوئی بدقسمت ملک ہوگا جس کے دستور میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے آئے دن جب کوئی حکومت چاہے ترمیم کرالیتی ہے۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے تو اس کے سربراہ کا یہ بیان ایسے ادارے کے لیے کہ جس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے قابل مذمت ہے حکومت اور ادارے کبھی ایک پیج پر نہیں آسکتے اس لیے کہ حکومت کا کام اداروں کو احکامات جاری کرنا اور ان سے ریاست اور عوام کی خدمت لینا ہوتا ہے ادارے عوام کی ضرورت ہیں اور یہی اداروں کے لیے ان کی عظمت ہے ناکہ ان اداروں کے عشق میں مبتلا ہونا ہوتا ہے لیکن اگر حکومت عوامی نمائندہ نہ ہو اور فارم سینتالیس سے رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن دھاڑے قائم کردی جائے تو پھر تو یک جان دوقالب کا بیان آپ ہی کو سجتا ہے۔