اسلام اورعصری علوم (حصہ چہارم)

400

مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقی زوال کے باوجود مغرب سائنس وٹیکنالوجی میں برتری اور معاشی قوت کے بل پر اپنی تہذیب کو سب پر مسلّط کرنا چاہتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں غالب تہذیب نے ایسا ہی کیا ہے اور آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ مغربی تہذیب اور سیکولرازم ولبرل ازم لازم وملزوم ہیں لیکن سائنس وٹیکنالوجی اور مغربی تہذیب میں تلازم کا دعویٰ کرنا درست نہیں ہے۔ تلازم کے معنی ہیں: ’’دوچیزوں کا ایک دوسرے کے لیے اس طرح لازم وملزوم ہونا کہ ایک کا وجود دوسرے کے وجود کو اور ایک کا عدم دوسرے کے عدم کو مستلزم ہو‘‘۔ یہ میدان سب کے لیے خالی ہے۔ شاد عظیم آبادی نے کہا ہے: یہ بزم مے ہے‘ یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں، مینا اسی کا ہے۔

سو مینائے علم امت ِ مسلمہ کا منتظر ہے، وہ آئے آگے بڑھ کر اس کا پرچم ہاتھ میں تھام لے اور سربلند وسرفراز ہوجائے۔ مینا کے ایک معنی ہیں: ’’شراب کی بوتل‘‘ لیکن یہاں ’’جامِ مَے‘‘ مراد نہیں، بلکہ جامِ علم ہے۔ اعظم چشتی نے کہا ہے: طیبہ سے منگائی جاتی ہے، سینے میں چھپائی جاتی ہے؍ توحید کی مئے ساغَر سے نہیں، آنکھوں سے پلائی جاتی ہے۔

ہمارا حال یہ ہے: اپنی نا اہلی، نالائقی، بے عملی، کسل مندی، کم ہمتی اور پستی کا ادراک کر کے اس پر قابو پانے کے بجائے ہم امریکا اور اہل ِ مغرب کو اس طرح کوستے رہتے ہیں کہ گویا اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں غالب کرنا امریکا اور اہل ِ مغرب کی ذمے داری ہے۔ جس کے ادا کرنے میں ناکامی کے سبب وہ قابل ِ ملامت ومذمت ہیں۔ اسی طرح اسلام خواتین کی تعلیم کا بھی مخالف نہیں ہے، اس کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس وجامعات کی تنظیمات کے ساتھ ملحق طالبات کے مدارس کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ طالبات کی تعداد میں بھی فی صد کے اعتبار سے طلبہ کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دینی طالبات عالمات وفاضلات بننے کے بعد فقہ وافتاء اور دیگر شعبوں میں تخصّصات کی طرف بھی جا رہی ہیں اور یہ ایک امید افزا علامت ہے۔ اسی طرح کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی طالبات کے نتائج کی شرح طلبہ کے مقابلے میں عام طور پر بہتر رہتی ہے۔ امت کو بہت سے مسائل اْمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے توسط سے معلوم ہوئے، صحابہ کرام مسائل معلوم کرنے امہات المومنین کے پاس آتے تھے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’اور جب تم اْن سے سوال کرو تو پردے کے پیچھے سے سوال کرو‘‘۔ (الاحزاب: 53) مثلاً: اگر خواتین میڈیکل کے مختلف شعبوں کی اسپیشلسٹ ہوں تو مختلف اَمراض میں مبتلا خواتین کو علاج اور جرّاحی کے لیے اجنبی مردوں کے پاس نہیں جانا پڑے گا، ورنہ ناگزیر حالات میں اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہتا۔ آج جو تحریف شدہ الہامی کتابیں تورات وانجیل موجود ہیں‘ اْن کے لیے بھی طے شدہ ضابطہ یہی ہے کہ اْن میں بیان کردہ تعلیمات میں جو چیز قرآن کے مطابق ہے، اْسے قبول کر لیا جائے گا۔ جو نہ قرآن کے موافق ہے اور نہ مخالف، اْس کے بارے میں توقف کیا جائے گا اور جو چیز قرآن کی ضد ہے، اْسے ردّ کر دیا جائے گا۔ نوجوان علما تحقیق کے میدان میں انٹرنیٹ اور آئی ٹی کے شعبوں سے استفادہ کر رہے ہیں، یقینا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوگا یہ وقت کا تقاضا ہے، جنہیں اپنے عہد کا ادراک کر کے جینا ہے اْن کے لیے یہ سب کچھ ناگزیر ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، وہ دلیل سے زندہ رہے‘‘۔ (الانفال: 42) سو ہر ایک کو اپنا مقام متعین کرنے کے لیے اپنی اہلیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے، بشرطیکہ دلائل ثقہ، مستند اور موضوع سے متعلق ہوں محض کٹ حجتی، بے مقصد اور بے نتیجہ لفّاظی اور مناظرہ بازی پر مشتمل نہ ہوں۔

گزشتہ اقساط میں ہم نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام اور سائنسی وفنّی علوم میں کوئی تضاد نہیں ہے، ہر علم وفن اور ہر ایجاد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اگر عصری علوم کی امامت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگی تو وہ دنیا کی قیادت کریں گے اور اگر اغیار کے ہاتھ میں ہو گی تو مسلمانوں کے حصے میں علم وفن کی گدائی ہی آئے گی۔ دنیا میں مقامِ افتخار پانے کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوتی ہے، اسی کو Survival of the fittest یا بقائے اَصلح کا نام دیا گیا ہے۔ اَسلاف کی عظمتوں کی مرثیہ خوانی سے عظمتیں نہیں ملا کرتیں۔ علامہ اقبال نے درج ذیل اشعار میں یہی سبق دینے کی کوشش کی ہے: کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تْو نے؍ وہ کیا گردْوں تھا، تْو جس کا ہے اک ٹْوٹا ہوا تارا ٭ تجھے اس قوم نے پالا ہے، آغوشِ محبّت میں؍ کْچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا ٭ تمدّن آفریں، خلاّقِ آئین ِ جہاں داری؍ وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا ٭ گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے؍ کہ مْنعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا ٭ غرض میں کیا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے؍ جہاںگیر وجہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا ٭ اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں؍ مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظارا ٭ تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی؍ کہ تْو گفتار وہ کردار، تْو ثابت وہ سیّارا ٭ گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی؍ ثْریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا ٭ حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی؍ نہیں دنیا کے آئین ِ مسلَّم سے کوئی چارا ٭ مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی؍ جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا۔

مفہومی ترجمہ: ’’اے مسلم نوجوان! کبھی تو نے غور وفکر کیا ہے کہ عظمتوں کا وہ کون سا آسمان تھا، جس سے تو ٹوٹ کر پستی میں گرا ہے۔ تجھے تو اْس قوم نے اپنی آغوشِ محبت میں پالا تھا جس نے اپنے عہد کے دارا وسکندر کے تاجوں کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا۔ اسلام نے عرب کے شتربانوں کو وہ عظمتیں عطا کیں کہ وہ دنیا کے لیے تمدن اور حکمرانی کے دستور بناکر اور اْن کا عملی نفاذ کر کے چلے گئے۔ ہمارے اسلاف گدائی میں بھی اتنے غیور اور متوکِّل تھے کہ کوئی بڑے سے بڑا داد ودہش کرنے والا انہیں لالچ نہیں دے سکتا تھا۔ الغرض عرب کے وہ صحرا نشیں جہاں گیر، جہاں دار، جہاں بان اور جہاں آرا تھے، وہ دنیا میں شاندار فتوحات اور عادل حکمرانی کی ایسی مثالیں قائم کر گئے، جن کے نقوش آج بھی تاریخ کے اوراق پر ثَبت ہیں۔ میں اْن کی عظمتوں اور کارہائے نمایاں کی اپنے الفاظ میں تصویر کشی تو کر سکتا ہوں، مگر اے عہد ِ حاضر کے مسلم نوجوان! تیرے تخیّْل وافکار کی دنیا سے وہ نظارا بلند تر ہے۔ تجھے اْن رفعتوں اور عظمتوں کا ادراک نہیں ہے کہ تم بھی اْن کے حصول کے لیے مصروفِ عمل ہو جائو۔ تجھے اپنے آبائو اجداد سے سرے سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے کہ تو گفتار کا غازی ہے، وہ کردار کے پیکر تھے، تو نے جمود کو شعار بنا لیا ہے اور وہ ہر آن ترقی اور عظمت کی شاہراہ پر گامزن تھے، اْن کے مزاج میں جمود کے بجائے تحرّک تھا۔ ہم نے اَسلاف سے جو عظمتوں کی میراث پائی تھی، جب ہم نے اْسے کھو دیا تو آسمان نے ثریاکی بلندیوں سے ہمیں زمین کی پستیوں پر دے مارا۔ حکومت چھن جانے کا غم تو برداشت کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دنیا کا تسلیم شدہ دستور ہے کہ جب کوئی قوم اپنی حکمرانی کا استحقاق کھو دیتی ہے، تو اْس سے اقتدار چھن جاتا ہے۔ مگر ہمارے آبائو اجداد کی مختلف علوم وفنون سے متعلق کتابوں کو جب آج یورپ کے کتب خانوں کی زینت بنے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے‘‘۔

عربی شاعر فرزدق نے کہا تھا: مفہومی ترجمہ: ’’جریر! جب کہیں کسی شعبہ؍ حیات میں رجالِ کار کا اجتماع ہو تو میرے باپ دادا تو اس شان والے ہیں۔ آپ کے پاس اگر کوئی ان کا مثیل ونظیر ہو تو لائو پیش کرو‘‘۔ سیدنا علی ؓ نے کہا تھا: مفہومی ترجمہ: ’’ہم اپنے بارے میں اللہ کی تقسیم پر راضی ہیں۔ اْس نے ہمیں علم سے نوازا ہے اور جاہلوں کو مال عطا کیا ہے۔ مال تو عنقریب ختم ہو جائے گا اور علم ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والا ہے۔ اس پر کبھی زوال نہیں آتا‘‘۔
(جاری ہے)