یہ دیوالیہ لوگ

324

چند روز پہلے لندن سے خبر آئی تھی کہ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کی کمپنی کو برطانوی حکومت نے دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔ کمپنیاں دیوالیہ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی خبر نہ تھی جو کالم کا موضوع بنتی لیکن شریف فیملی کے ترجمان نے اس خبر پر ایک سیاسی بیان داغ کر دیوالیہ پن کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کے ساتھ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اسے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ دیوالیہ کیا جا چکا ہے۔ شریف فیملی کو دیوالیہ کرنے کا عمل 1972ء میں بھٹو حکومت کے دور میں شروع ہوا تھا جب اس کی فیکٹری کو نیشنلائز کر لیا گیا تھا۔ پھر پرویز مشرف کے دور میں یہ عمل دہرایا گیا‘ اس کے بعد ثاقب نثار اینڈ کمپنی نے بھی یہی کھیل کھیلا اور شریف فیملی کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کی۔ شریف فیملی کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ لندن میں شریف فیملی کے کون سے مخالفین ہیں جنہوں نے یہ نازیبا حرکت کی ہے۔ البتہ یہ اعتراف کیا ہے کہ برطانوی عدالت نے حسن نواز کی درخواست پر ان کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے کا قدم اٹھایا ہے کیوں کہ انہوں نے کمپنی کے ذمے واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

آپ نے یہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک کبڑے کو کسی نے اتنی زور کی لات ماری کہ اس کا کبڑا پن دور ہو گیا اور وہ تن کر چلنے لگا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ شریف فیملی کے ساتھ پیش آیا ہے۔ بھٹو نے اپنے دور میں کتنی ہی فیکٹریوں اور کارخانوں کو نیشنلائز کیا تھا۔ شریف فیملی کو جانتا کون تھا لیکن اس کا ایک کارخانہ کیا نیشنلائز ہوا کہ اس کی تقدیر بدل گئی اور لوہا کوٹنے والا خاندان دیکھتے دیکھتے ارب پتی‘ کھرب پتی بلکہ ملک کے سیاہ سفید کا ملک بن بیٹھا۔ وہی کبڑے والی بات‘ اسے لات اتنی کاری پڑی کہ تن کر چلنے لگا اور بڑے بڑے اکڑ خانوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بھٹو شریف فیملی کی اتفاق فائونڈری کو قومی تحویل میں نہ لیتے تو ممکن تھا کہ جنرل ضیا الحق کی نظر بھی اس خاندان پر نہ پڑتی اور وہ محض لوہا کوٹتا رہ جاتا۔ جنرل ضیا الحق نے بھٹو کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اس لیے وہ بھٹو کے متاثرین سے ہمدردی جتا کر اور ان کا اثاثہ واپس دے کر اپنے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب رہے۔ دوسری طرف بھٹو کے متاثرین بھی ان کے مرید ہو گئے۔ ان متاثرین میں شریف خاندان بھی شامل تھا۔ میاں محمد شریف بہت جہاندیدہ آدمی تھے‘ انہوں نے اتفاق فائونڈری واپس ملنے کے بعد جنرل ضیا الحق کا دامن تھام لیا۔ جنرل ضیا الحق بھی ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ کارِ حکمرانی کے لیے ان سے ایک بیٹا مانگ بیٹھے۔ میاں شریف کی تو باچھیں کھل گئیں۔ انہوں نے اپنے بڑے صاحبزادے میاں محمد نواز شریف کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ نواز شریف کو پہلے پنجاب کا وزیر خزانہ بنایا گیا پھر جب جرنیلوں سے وفاداری ان کی طبیعت میں رچ بس گئی تو وہ ترقی کرتے کرتے وزیراعظم بھی بن گئے۔ اس دوران میاں محمد شریف نے اپنے چھوٹے بیٹے شہباز شریف کو بھی میدانِ سیاست میں دھکیل دیا تھا۔ چنانچہ جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو پنجاب کا تخت خالی ہو گیا اور شہباز شریف اچھل کر اس پر جا بیٹھے۔ اس طرح بڑا بھائی وزراتِ عظمیٰ اور چھوٹا بھائی وزارتِ اعلیٰ کے مزے لوٹنے لگا اور شریف فیملی پر ہُن بارش کی طرح برسنے لگا۔

روایت ہے کہ جنرل حمید گل جو اُن دنوں آئی ایس آئی کے چیف تھے میاں محمد شریف کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے درخواست کی کہ آپ کا خاندان اس وقت وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار ہے اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے کاروبار سے عارضی طور پر لاتعلقی اختیار کر لیں‘ ورنہ آپ پر یہ الزام آئے گا کہ آپ نے اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے سرکاری اثر رسوخ استعمال کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سنتے ہی بڑے میاں صاحب کے ماتھے پر بَل آگیا اور انہوں نے کہا ’’یہی تو ہمارے کمانے کے دن ہیں اور آپ ہمیں اس سے روکنا چاہتے ہیں‘‘۔ جنرل حمید گل اس گفتگو کے بعد واپس چلے گئے اور شریف خاندان نے اقتدار کے دوران خوب کمایا‘ خوب کمایا اتنا کمایا کہ پاکستان میں اس دولت کو رکھنے کی جگہ نہ رہی اور انہیں بیرونی بینکوں اور آف شور کمپنیوں کا سہارا لینا پڑا۔

شریف فیملی کے ترجمان نے مالی طور پر دیوالیہ ہونے کا جو رونا رویا ہے اس کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اسے سیاسی طور پر انتقامی کارروائی کا نشانہ ضرور بنایا گیا اور اس کا کاروباری نقصان بھی ہوا لیکن دیوالیہ وہ کبھی نہیں ہوا‘ اس نے دوبارہ‘ سہ بارہ برسراقتدار آکر اس نقصان کو مع سود کے پورا کر لیا۔ ہاں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس خاندان نے پاکستان کے نام پر عالمی اداروں سے قرضے لے کر پاکستان کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی پاکستان تو عملاً دیوالیہ ہو گیا لیکن اس خاندان کی دولت کا کوئی شمار نہیں ہے اور یہ دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ البتہ سیاسی طور پر اس کے دیوالیہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں۔ 2024ء کے انتخابات میں اس نے جس دیوالیہ پن کا ثبوت دیا ہے اس سے اس کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی ہے۔ میاں نواز شریف 2017ء میں اسٹیبشلمنٹ کے گٹھ جوڑ سے اقتدار سے نکالے گئے تو بلاشبہ یہ ان کے ساتھ ناانصافی تھی انہوں نے اس ناانصافی کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ ترتیب دیا جس کی عوام میں خاصی پزیرائی ہوئی، پھر وہ اس بیانیے کو لے کر لندن چلے گئے جہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے۔ اس دوران پاکستان کے حالات بدلے‘ اسٹیبلشمنٹ نے عمران حکومت کو چلتا کیا تو اس کی نظر پھر نواز شریف پر پڑی‘ اس نے انہیں اقتدار کی پیش کش کی تو وہ فوراً ووٹ کی جگہ بوٹ چاٹنے پر آمادہ ہوگئے انہوں نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ گوروں کے قبرستان میں دفن کرکے پاکستان میں قدم رکھا تو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان کی بڑی پزیرائی ہوئی‘ ان کے جلسوں کا سرکاری طور پر بندوبست کیا گیا۔ میڈیا میں بھی انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا لیکن 2024ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں اور ان کی پارٹی کو مسترد کر دیا۔

میاں نواز شریف نے لاہور اور مانسہرہ سے انتخابات میں حصہ لیا اور دونوں جگہ انہیں بری طرح شکست ہوئی، وہ بوٹ چاٹ کر اسمبلی میں پہنچ گئے۔ وہ تو وزیراعظم بننا چاہتے تھے لیکن شاید مقتدرہ کو ہی شرم آگئی اور اس نے ایک شکست خوردہ شخص کو وزیراعظم بنانے سے انکار کردیا‘ البتہ پنجاب ان کی بیٹی کے اور وفاق ان کے بھائی کے حوالے کردیا۔ اس طرح شریف فیملی اپنے سیاسی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کرکے آج بھی برسراقتدار ہے اور پاکستان کو مالی طور پر دیوالیہ کر رہی ہے۔ البتہ شریف فیملی کے ایک فرد حسن نواز کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے برطانوی عدالت کو درخواست دے کر خود دیوالیہ کر والیا ہے۔ا