لاہور میں اسموگ کا راج‘ بیماریاں پھیلنے لگیں

49

لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں ایک بار پھر پہلے نمبر پر آگیا۔شہر میںا سموگ کی اوسط شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، بھارت میں بڑے پیمانے پر فصلوں کی باقیات جلانے سے اسموگ میں شدت آئی۔ ترجمان محکمہ موحولیات کے مطابق بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا شدید دھواں پاکستان میں داخل ہوچکا ہے اور بھارت سے آنے والی تیز ہواں نے لاہور میں فضائی آلودگی انڈیکس ایک ہزار تک پہنچا دیا۔ ڈی ایچ اے کے علاقے کا ائر کوالٹی انڈیکس 1319 تک جا پہنچا ہے۔اسی طرح امریکن قونصلیٹ کے علاقے کا ائر کوالٹی انڈیکس1007تک پہنچ گیا۔ ادھر اسلام آباد میں اسموگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) نے ضلعی انتظامیہ سے دفعہ 144 نافذ کرنے کی سفارش کردی۔پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ضلعی انتظامیہ سے بھٹوں سے دھویں کے اخراج، ٹھوس فضلے اور زرعی فضلے کے جلانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔پاک ای پی اے کے خط کے مطابق اسموگ سے بچاؤکے لیے4 ماہ تک دفعہ 144 نافذ کی جائے، خلاف ورزی کی صورت میں ای پی اے ایکٹ کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔ لاہور میں فضائی آلودگی کے باعث سانس کے مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ آنکھوں میں جلن کی شکایات بھی ہیں، طبی ماہرین نے شہریوں کو ماسک پہن کر باہر نکلنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب فضائی آلودگی کے اعتبار سے بھارت کا شہر کولکتہ311 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے اور دہلی258 اے کیو آئی کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے تیز ہوائوں کا میپ جاری کردیا جس کے مطابق بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا شدید دھواں پاکستان میں داخل ہوگیا۔ناسا نے فضائی امیج بھی جاری کر دیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فصل کی باقیات جلانے سے اسموگ میں شدت آئی، ہواں کا رخ بدلنے سے جمعہ کے روز لاہور میں فضائی آلودگی اوسط 157پر تھی جبکہ گزشتہ5 دن تک اوسط 180 پر رہی تھی۔ بھارت سے آنے والی تیز رفتار ہوا کے ساتھ دھواں بھی پاکستانی علاقوں میں داخل ہوگیا۔موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فصلوں کی باقیات جلانے سے اسموگ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اطلاعات کے مطابق گرین اسمارٹ لاک ڈاؤن والے ایریاز میں حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا اور24گھنٹے میں 6 لاکھ سے زائد جرمانے کیے گئے۔ آرٹیفشل انٹیلیجنس سسٹم کی مدد سے بھی ای چالان کا سلسلہ جاری ہے۔