ایران کی تیل تنصیبات پر بڑے اسرائیلی حملوں کی تیاری؟

255

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اسرائیل کو ایران پر حملوں سے روک دیا ہے کیونکہ جوابی حملوں سے خطے میں مکمل جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے اور کئی ممالک اس میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ اب امریکی صدر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کی تیل کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے مشاورت ہو رہی ہے۔

تین دن قبل جب ایران نے اسرائیل پر 200 سپر سونک بیلسٹک میزائل داغے تھے تب عالمی برادری نے شدید مذمت تو کی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ تحمل سے کام لے اور جوابی کارروائیوں سے گریز کرے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ایران پر براہِ راست حملے کی حماقت نہ کرے مگر اب امریکی صدر کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ ان کی طرف سے اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کا عندیہ ظاہر کیے جانے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔

بھارت میں ایران کے سفیر ایراج الٰہی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل یا کوئی اور ملک ایران پر براہِ راست حملہ کرنے سے باز رہے کیونکہ یہ 1981 کا ایران نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ایران کے حملوں کی مذمت کرنے والوں کو غزہ یاد آیا نہیں جس پر بمباری کے دوران اسرائیل نے تمام تہذیبی، قانونی اور اخلاقی اقدار بالائے طاق رکھ دی تھیں اور شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔

انڈیا ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے ایراج الٰہی نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی حملے کا ایرانی فوج بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گی۔ اگر امریکا اور دیگر پارٹنرز نے اسرائیل کو ایران کے خلاف بھرپور حملوں کے لیے اُکسایا اور مدد کی تو اس کے نتیجے میں بہت زیادہ خرابیاں پھیلیں گی۔

ایراج الٰہی کا کہنا تھا کہ ہم ٹیکنالوجیز کے دور میں جی رہے ہیں۔ اسلحہ خانہ بھی بدل چکا ہے اور جنگی طریقے بھی۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل یا کسی اور دشمن کو زیادہ سے زیادہ کاری ضرب کس طرح لگانی ہے۔ ایران کے جدید ترین میزائل ہیں جو اپنے ہدف تک پہنچنے کا متاثر کن ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ایران اپنے وسائل سے اپنا دفاع کرنے کا اہل ہے۔ وہ ہتھیاروں اور ساز و سامان کے معاملے میں کسی کا محتاج نہیں۔