الیکشن ایکٹ پرعمل کریں یا عدالتی حکم پر؟‘الیکشن کمیشن کی عدالت عظمیٰ میں درخواست

116

اسلام آباد(آن لائن) الیکشن کمیشن آف پاکستان آخرکار 7روزکے لگاتار اجلاس کے بعدکسی نتیجے پر پہنچ ہی گیااور مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کر تے ہوئے الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ میں متفرق درخواست دائر کر دی ہے اور الیکشن ترمیمی ایکٹ کو فوقیت دی جائے یا عدالتی فیصلے کو؟ الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ سے رہنمائی مانگ لی ہے درخواست میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خط لکھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن ایکٹ میں ترمیم ہوئی، الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی ہونے والے ارکان نے بھی ترمیمی قانون پر عملدرآمد کے لیے رجوع کیا، عدالتی فیصلے پر 39ارکان کی حد تک عملدرآمد ہوچکا ہے، ترمیمی ایکٹ میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے ترمیم کرکے ماضی سے اطلاق کیا گیا ہے، عدالتی فیصلے واضح ہیں کہ پارلیمنٹ کی دانش کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا، عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنا بھی سوالیہ نشان ہوگا، واضح رہے کہ ذرائع کاکہناہے کہ: چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت حتمی اجلاس میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کا فیصلہ کیا گیا،کمیشن کے 2 ممبران نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کی تجویز دی تھی،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم کی تجویز پر متفرق درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔