جامعات اور انڈسٹری کے درمیان خلا کو پر کرنا ناگزیر ہے، ، اتالیق اور جامعہ کراچی کے اشتراک سے ورکشاپ

186
اتالیق فاؤنڈیشن کے شہزادقمر جامعہ کراچی میںکیئریئرسے متعلق ورکشاپ میں طلبہ سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی میں اتالیق فاؤنڈیشن اور کلیہ سماجی علوم کے تعاون سے چائییز ٹیچر میموریل آرڈیٹوریم میں کریئر کونسلنگ کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے سی ای او اتالیق فاؤنڈیشن شہزاد قمر نے کہا کہ انسانی زندگی کی تعمیرمیں کریئر کونسلنگ کی بہت زیادہ اہمیت ہے کریئر کا انتخاب کرتے ہوئے طلبہ کو اپنی دلچسپی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے، اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف ساکھ اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے ہر بچہ منفرد ہے اور اس کی قابلیت دوسروں سے مختلف ہے۔ ورکشاپ میں ماسٹر انٹیلی جنس تھیوری پر مشتمل ٹیسٹ کا انعقاد ہوا جس میں طلبہ نے بھر پور حصہ لیا اور اپنی شخصیت کو پہچاننے کے لیے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا، ورکشاپ کے دوران مختلف سوالات اور سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے شیخ کلیہ سماجی علوم ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ جامعات اورانڈسٹری کے درمیان خلا کو پر کرنے کی بہت ضرورت ہے،اس عمل کے لیے اتالیق فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں قابل ستائش ہیں،کریئر کونسلنگ اور اس جیسے پروگرامات کا انعقاد ہونا بہت زیادہ ضروری ہے۔شعبہ معاشیا ت کی اسسٹنٹ پ پروفیسر ڈاکٹر صفیہ منہاج نے کہا کہ والدین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کریئر کے انتخاب کے لیے بچوں کو سوچنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کریں اوردنیا میں شعبہ جات کی کوئی کمی نہیں ہے ہر فیلڈ میں روزگار اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔کوپریٹ ٹرینر شارق سلیم نے کہا کہ انڈسڑی میں کام کرنے کے لیے نوجوانو کو اسکلز سیکھنے کی ضرورت ہے سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے لنکڈن اور فری لانس پلیٹ فارمز پر کام کریں،ٹیلنٹ کی قدر ہر جگہ ہوتی ہے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ورکشاپ میںکوپریٹ ٹرینر شارق سلیم،لکی انڈسٹری سے احسن فرید پراچا، سی ای او عکاظ مارٹ سعد شاہ ،ماہر تعلیم آفتاب احمد تابی اور سینئر صحافی خلیل احمد ناصر سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت۔ ورکشاپ کے اختتام پر مہمانوں نے طلبہ میں اسناد بھی تقسیم کیے جبکہ اتالیق فاؤنڈیشن کی جانب سے مہمانوں کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی گئی۔