بنگلا دیش میں بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا

534

بنگلا دیش میں نوجوانوں کی پرعزم جدوجہد اور قربانی بالآخر رنگ لے آئی اور 15 سال تک ملک پر مسلط رہنے والی حسینہ واجد کو انتہائی مایوسی اور بے بسی کے عالم میں ملک سے فرار ہونا پڑا۔ وہ بھارت کے بل پر بنگلا دیش پر حکومت کررہی تھیں اب فرار ہو کر انہوں نے بھارت ہی میں پناہ لی ہے۔ وہ برطانیہ جانا چاہتی تھیں لیکن برطانوی حکومت نے سردمہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ امریکا نے بھی ان کا ویزا منسوخ کردیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حسینہ واجد بھارت میں قیام کرنے کے بجائے فن لینڈ چلی گئی ہیں۔ ممکن ہے یہ اطلاع درست ہو کیونکہ بھارت بھی ان کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں رہا۔ بنگلا دیش اپنے قیام کے بعد سے مسلسل انقلابات سے دوچار رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن جو بنگلا دیش کے قیام کا مرکزی کردار تھے اور خود کو بنگلا بندھو کہلاتے تھے، بہت کم عرصہ اقتدار کا مزا لوٹ سکے ان کی بھارت نوازی نے فوج کو مشتعل کردیا اور فوج کے جونیئر افسروں نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر شیخ مجیب الرحمن سمیت تمام اہل خانہ کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ حسینہ واجد اس لیے بچ گئیں کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ملک سے باہر تھیں۔ جنرل ضیا الرحمن نے اقتدار سنبھالا تو وہ بھی جوابی انقلاب کا شکار ہوگئے اور جنرل ارشاد نے حکومت سنبھال لی۔ بنگلا دیش کے عوام کا مزاج جمہوری ہے، فوجی حکومتیں ان کے مزاج کے خلاف تھیں، چناں چہ ان کی تائید سے جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد شروع ہوئی اور سیاسی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی، بنگلا دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور عوامی لیگ نے اس جدوجہد میں موثر کردار ادا کیا۔ عوامی لیگ حسینہ واجد کی قیادت میں کام کررہی تھی اور بحالیٔ جمہوریت کی جدوجہد میں وہ اپوزیشن لیڈروں کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں۔ سیاستدانوں کے اجلاس بالعموم پروفیسر غلام اعظم کے مکان میں ہوئے اور حسینہ واجد ان اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتی تھیں۔ آخر یہ جدوجہد رنگ لائی۔ جنرل ارشاد اقتدار سے دستبردار ہونے اور الیکشن کے ذریعے منتخب حکومت کو اقتدار سونپنے پر آمادہ ہوگئے۔ چناں چہ الیکشن ہوئے تو بیگم خالدہ ضیا کی بنگلا دیش نیشنل پارٹی اور پروفیسر غلام اعظم کی جماعت اسلامی نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور ان دونوں جماعتوں کی مخلوط حکومت نے اقتدار سنبھالا۔ ملک میں اسلامی قدروں کو فروغ حاصل ہوا اور پاکستان سے تعلقات بڑھانے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان فیڈریشن قائم کرنے کی باتیں بھی ہونے لگیں جس پر بھارت کے کان کھڑے ہوگئے اور اس کے لیڈروں کا یہ بیان سامنے آیا کہ ہم نے بنگلا دیش اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہمارے پہلو میں ایک اور پاکستان بن جائے۔ ہم بنگلا دیش کا اسلامی تشخص کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن یہ کام بھارت کے لیے اتنا آسان نہ تھا اس کے لیے بنگلا دیش میں اسے ایک مہرے کی ضرورت تھی۔ یہ مہرا اسے حسینہ واجد کی صورت میں دستیاب تو تھا لیکن اسے اقتدار میں لائے بغیر بات نہیں بن سکتی تھی۔

چناں چہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ماہرین نے حسینہ واجد کو آئندہ انتخابات میں کامیابی کے گُر سکھائے اور عوام کے جذبات سے کھیلنے کے دائو پیچ بتائے۔ جمہوریت میں تلوّن مزاجی پائی جاتی ہے اور عوام ہمیشہ نئے تجربات کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ بیگم خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کی حکومت کو انہوں نے آزمالیا تھا، اگرچہ یہ حکومت ان کی توقعات پر پوری اُتری تھی لیکن میڈیا انہیں اُکسا رہا تھا کہ وہ بیگم حسینہ واجد کو بھی موقع دیں، آخر اس کے باپ نے انہیں آزادی لے کر دی ہے اور پورے خاندان سمیت مظلومیت کی مارا گیا ہے اس کی زندہ بچ جانے والی بیٹی کی کچھ تو اشک شوئی ہونی چاہیے۔ بنگلا دیش کے میڈیا پر سیکولرسٹوں کا قبضہ تھا اور وہ بیگم حسینہ واجد کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ چناں چہ انتخابات میں پہلی کامیابی حسینہ واجد نے عوام کے ووٹوں سے حاصل کی۔ جونہی اقتدار اس کے قبضے میں آیا تو ’’را‘‘ نے اس کے گرد اپنا گھیرا تنگ کردیا۔ اسے بتایا گیا کہ اگر وہ تاحیات برسراقتدار رہنا چاہتی ہے تو اسے اپنے سیاسی مخالفین کا صفایا کرنا ہوگا۔ فوج، عدلیہ اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں سے ’’مشتبہ‘‘ عناصر کو نکالنا ہوگا اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹنا پڑے گا۔ تاحیات برسراقتدار رہنے کا نشہ اتنا ظالم تھا کہ حسینہ واجد نے ’’را‘‘ کے آگے سپر ڈال دی اور سب کچھ بھارت کے کنٹرول میں دے دیا۔ چناں چہ سب سے پہلے جماعت اسلامی پر ہاتھ ڈالا گیا کہ وہ بنگلا دیش کو ایک اسلامی ملک بنانا چاہتی تھی۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگادی گئی اور اس کے لیڈروں پر غداری کا مقدمہ قائم کرکے انہیں ایک نام نہاد تحقیقاتی ٹربیونل کے ذریعے پھانسی دے دی گئی۔ بعض لیڈروں کو قید کرکے انہیں جیل میں اتنی اذیت دی گئی کہ ان کی شہادت واقع ہوگئی۔ بنگلا دیش نیشنل پارٹی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا بھی حسینہ بیگم کی مضبوط ترین سیاسی حریف تھیں انہیں بھی جیل میں ڈال دیا گیا۔ بی این پی کے ایک لیڈر صلاح الدین چودھری کو غداری کے الزام میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ فوج میں بھی تطہیر کی گئی جو فوجی افسر مشتبہ نظر آئے انہیں فارغ کردیا گیا۔ پروفیسر غلام اعظم کے صاحبزادے ایک سینئر فوجی افسر تھے انہیں بھی سبکدوش کردیا گیا انہیں اتنا تنگ کیا گیا کہ وہ جلاوطنی پر مجبور ہوگئے۔ عدلیہ، خارجہ و داخلہ کے محکموں اور دیگر اہم اداروں میں بھی چھانٹی کی گئی اور ان میں بھارت نواز افراد لگائے گئے۔ اس طرح حسینہ بیگم نے تین الیکشن اس حال میں جیتے کہ کوئی ان کے مدمقابل نہ تھا اور پورے ملک میں ہُو کا عالم تھا۔ یہ سب کچھ ہوا لیکن طلبہ اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو روکا نہ جاسکا۔ یہ آتش فشاں پھٹا اور سب کچھ بہا کر لے گیا۔ بظاہر یہ کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج تھا لیکن درحقیقت یہ حسینہ بیگم کے پردے میں بھارت کے جابرانہ تسلط کے خلاف ہمہ گیر بے چینی تھی جو لاوے کی مانند پھوٹ بہی تھی اور اس نے پورے ظالمانہ نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بھارت اس کا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے لیکن بھارت تو خود اپنے معاملات میں اُلجھا ہوا ہے وہ کسی دوسرے ملک میں مداخلت کیا کرے گا۔

بنگلا دیش میں جو انقلاب آیا ہے وہ وہاں کے عوام کی اپنی کاوشوں کا نتیجہ ہے یہ تو حالات بتائیں گے کہ یہ انقلاب کتنا پائیدار ثابت ہوگا البتہ یہ بات طے ہے کہ بھارت کو بنگلا دیش میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس نے بنگلا دیش میں جو سرمایہ کاری کی تھی وہ سب ڈوب گئی ہے۔