فلپائن نے چینی باشندوں کے آن لائن جوئے خانوں پر پابندی لگادی

253

فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیر نے چینی باشندوں کے آن لائن جوئے خانوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان جوئے خانوں میں ہزاروں چینی اور جنوبی ایشیائی باشندے ملازمت کرتے ہیں۔ اس کریک ڈاؤں کو بیجنگ کی حمایت حاصل ہے۔

فلپائن کے صدر نے پابندی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چینیوں کی طرف سے چلائے جانے والے آن لائن جوئے خانے مالیاتی گھپلوں، انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیر نے چینیوں کے آن لائن جوئے خانوں پر پابندی کا اعلان قوم سے خطاب کے دوران کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین سے جتنے بھی معاملات پر اختلافات ہیں اُنہیں گفت و شنید کے ذریعے نپٹایا جائے گا۔

فلپائن میں دو عشروں کے دوران جوئے کی لت نے خطرناک شکل اختیار کی ہے۔ لاکھوں فلپائنی باشندے راتوں رات امیر ہونے کے لیے عام جوئے خانوں کے علاوہ آن لائن جوئے خانوں کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں راتوں رات دولت مند بننے کی ذہنیت خطرناک حد تک بڑھی ہے۔

جوئے کی لت نے جرائم کا گراف بھی بلند کردیا ہے۔ آن لائن فراڈ کے واقعات میں غیر معمولی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں لوگ انعامی اسکیموں کے ذریعے راتوں رات دولت مند بنننے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس ذہنیت کے مالیاتی گھپلوں کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان، قتل اور دیگر سنگین جرائم کو تیزی سے معاشرے پر مسلط کیا ہے۔ فلپائن کے طول و عرض میں 400 سے زیادہ آن لائن جوئے خانے کام کر رہے ہیں۔ ان پر پابندی سے ہزاروں چینی اور جنوبی ایشیائی باشندے بے روزگار ہوں گے۔ ان میں سے بیشتر کو انتہائی نامساعد حالات میں اور بہت ہی کم اجرتوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔