عمران خان نے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کی کال دینےکا اعتراف کرلیا

215
Bogus-ul-Qadir trust case

 بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کی کال دینے کا اعتراف کرلیا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔ سابق وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ مخصوص نشستوں کی ریویو پٹیشن پر چیف جسٹس کو بہت جلدی ہے، چیف جسٹس سے کہتا ہوں ہماری 25 مئی کے حوالے سے پٹیشن پر سماعت کیوں نہیں ہو رہی۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 8 فروری کو کوور کرنے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، سب کو پتہ ہے کہ سپریم کورٹ میں اب یک طرفہ معاملہ چل رہا ہے۔

بانی بی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ہمارے کارکنان ملٹری جیل میں پڑے ہوئے ہیں، ان کا پلان ہے کہ مجھے بھی نو مئی کے مقدمات میں ملٹری جیل میں ڈالیں، اور ملٹری کورٹ لیکر جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نو مئی کے مقدمات میں بھی میرے خلاف وعدہ معاف گواہ تیار کیے جا رہے ہیں، وزیر آباد میں جب مجھے گولیاں لگیں، میں نے جنرل فیصل کا نام لیا تھا،اس وقت تو کسی نے احتجاج نہیں کیا تھا نہ توڑ پھوڑ ہوئی تھی، 14مارچ کو میرے گھر پر حملہ ہوا اور 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں مجھ پر ایک اورحملہ ہوا۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وکلا نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم کہیں نہیں جائیں گے اور تفتیش میں تعاون کریں گے، وکلا کی یقین دہانی کے باوجود رینجرز اور پولیس گھر میں داخل ہوئی اور توڑ پھوڑ کی، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پیشی پر پولیس دوبارہ مجھ پر حملہ آور ہوئی، مجھے پتہ لگ گیا تھا یہ مجھے گرفتار کریں گے، گرفتاری سے قبل کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔