عدالت عظمیٰ میں پیش کردہ موقف (آخری حصہ)

391

اس دفعہ کو حذف کرنے کے لیے بھی اس بات پر بحث کرنے کی ضرورت تھی کہ ایک ایسی کتاب کو قرآن مجید کہہ کر پڑھانا جس کے ترجمے میں تحریف کی گئی ہو اور اس کے ٹائٹل پر ایک غیرمسلم کو ’’خلیفۃ المسیح رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ کہہ کر مترجِم قرار دیا گیا ہو، جبکہ خلیفۃ المسیح اور’’رضی اللہ عنہ‘‘ اسلامی اصطلاحات ہیں، آیا اس دفعہ کے تحت قرآن کریم کی تحریف یابے حرمتی یا اسے غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کرنا کہلائے گا یا نہیں، لیکن اس کی تشریح میں فیصلہ بالکل خاموش ہے۔

سیدنا علیؓ بیان کرتے ہیں:مجھ سے رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’جب تمہارے پاس دو اشخاص فیصلہ کرنے کے لیے آئیں، تو پہلے شخص کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرو جب تک دوسرے کی بات نہ سُن لو، پھر تمہیں پتا چلے گا کہ کیسے فیصلہ کرو‘‘۔ (جامع ترمذی) اس حدیث میں مقدمے کے فیصلے کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ فریقین میں سے ہر ایک کو ٹھنڈے دل سے سُنا جائے۔ صرف وکیل سرکار سے کوئی مُبہم جملہ نکلوا کر فیصلہ کردینا اس حدیث کے خلاف ہوگا، اس کے بجائے اصل شکایت کنندہ سے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اُس نے کن وجوہات کی بنا پر الزام عائد کیا ہے، شکایت کنندہ کے وکیل کو اس تکنیکی وجہ سے نہ سننا کہ یہ مقدمہ بنام سرکار ہے، خاص طور پر ایک ایسے مسئلے میں جس کی حسّاسیت کا اعتراف تمام اعلیٰ عدالتوں نے کیا ہے، نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات قابل ذکرہے: جن مقدمات کا تعلق عقیدے سے ہو، ان کے بارے میں زیر نظر فیصلے کے پیراگراف 16 میں کہا گیا ہے:

We regretfully note that in dealing with cases pertaining to offences against religion facts give way to emotions, as seems to have happened in this case too, and individual complainants supplant the state, even though the very nature of these offences is not against an individual or with regard to personal property.

مفہومی ترجمہ: ’’جن جرائم کا تعلق مذہبی عقائد سے ہو، ان میں چونکہ کسی فرد یا اس کی نجی جائداد کا معاملہ نہیں ہوتا، اس لیے انہیں مقدمہ دائر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ صرف سرکار ہی اس کی حق دار ہے۔ یہاں گزارش یہ ہے کہ بنیادی مذہبی عقائد ایک مسلمان کے لیے مال ودولت اور جائداد سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی قانون کسی عقیدے کی خلاف ورزی کو جرم قرار دیتا ہے، تو یہ ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ سرکاری مشینری کو اس کی طرف متوجہ کرے اور اگر اس میں پس وپیش ہورہی ہو، تو براہ راست عدالت میں جائے۔ کسی مسلمان کے اس فعل کو غیر قانونی کہا جاسکتا ہے اور نہ قابل افسوس قرار دیا جاسکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے الفاظ چونکہ تمام عدالتوں کے لیے رہنما ہوتے ہیں، اس لیے یہ پیرا گراف انتظامیہ اور ماتحت عدالتوں کو اس قسم کے معاملات میں انفرادی شکایتیں قبول کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پولیس میں ایف آئی آر درج کرانا کتنا مشکل بن چکا ہے، اس کا اندازہ خود زیر نظر مقدمے کے ریکارڈ سے ہوسکتا ہے، اب انفرادی شکایتوں کا دروازہ بند کردینا ایک طرح سے ان جرائم کے خلاف مقدمات کے خاتمے پر ہی منتَج ہوسکتا ہے۔ اگر دینی جذبات کے تحت کسی قانون کے مطابق کارروائی کے راستے بند کیے جائیں گے تو لوگوں کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینے کا دروازہ کھلے گا، جو ہمارے نزدیک ہرگز جائز نہیں، بلکہ معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ لہٰذا گزارش ہے: اس فقرے کو بھی حذف کردیا جائے۔

اسی طرح زیر نظر فیصلے میں مذکورہ بالا دفعات کو خارج کرکے Criminal Law Amendment Act 1932 کی دفعہ 5کے تحت الزام کو کسی درجے میں تسلیم کرکے ملزم کی ضمانت منظور کی گئی ہے۔ ہمیں بعض ماہرین قانون نے بتایا ہے: یہ ترمیمی ایکٹ جس قانون کا حصہ تھا، وہ 1960 میں منسوخ ہوچکا ہے، ہمیں بذات خود اس کی تفصیلات کا علم نہیں ہے، عدالت خود اس کی تحقیق کرسکتی ہے، لیکن اگر یہ بات درست ہے تو اس دفعہ کے تحت جو فیصلہ دیاگیا وہ لازماً نظرثانی کا محتاج معلوم ہوتا ہے۔

اعلیٰ عدالتوں کو یہ بھی باریک بینی سے دیکھنا چاہیے: اگر کوئی قانون بعد میں بھی بنا ہے، لیکن اُس سے ماقبل جس جرم کا ارتکاب ہوا تھا، وہ اس نئے قانون کے بننے کے بعد بھی بدستور جاری ہے، تو اس مابعد قانون کا اُس پر بھی اطلاق کیا جانا چاہیے، کیونکہ بعض جرم وقتی ہوتے ہیں، لیکن بعض جرم ایسے ہوتے ہیں جو جاری رہتے ہیں اور ان کے اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں۔

لہٰذا ہمارا مخلصانہ مطالبہ ہے: زیر نظر فیصلے کو واپس لیا جائے، قرآن کریم کی جن آیات کا حوالہ دیکر انہیں موجودہ مقدمے پر منطبق کیا گیا ہے، انہیں حذف کیا جائے، کیونکہ اسی سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ قادیانیوں کے بارے میں جو معاملات آئین اور قانون میں قطعی طور پر طے کردیے گئے ہیں، انہیں از سرِنو چھیڑا جارہا ہے۔ پس اس غیر متعلق حصے کو نہ صرف عام لوگ بلکہ نیچے کی عدالتیں بھی غلط طور پر استعمال کرسکتی ہیں۔ نیز ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی جائے کہ وہ عدالت عظمیٰ کے 6فروری 2024 کے فیصلے اور جج صاحبان کے تبصروں اور مشاہدات سے کسی بھی طرح متاثر ہوئے بغیر حقائق کی بنیاد پر تمام متعلقہ دفعات کے تحت مقدمے کی کارروائی پوری کرکے فیصلہ دے۔ الغرض اگر ٹرائل کورٹ کی کارروائی کی تکمیل سے پہلے عدالت عظمیٰ کسی مقدمے کے بارے میں کوئی تبصرہ کرے گی، کوئی رائے دی گی یا کوئی مشاہدہ بیان کرے گی، تو ماتحت ٹرائل کورٹ کا اُس سے متاثر ہونا ناگزیر ہے، پس اعلیٰ عدالتوں کا یہ رویہ ماتحت عدالتوں کی شفاف تحقیقات اور بے لاگ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔

ہم ایک بار پھر عرض کرتے ہیں: ہم نے خالی الذہن ہوکر اور جذبات سے بالاتر ہوکر یہ سطور لکھی ہیں، ہمارے منصِب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کسی بھی حالت میں احتیاط کے دامن کو نہ چھوڑیں۔ لیکن اعلیٰ عدالتوں سے بھی گزارش ہے: اگر ایک طرف مذہبی مذہبی حساسیت کو ابھارنا حکمت کے منافی ہے، تو دوسری طرف مذہبی حساسیت کو یکسر نظر انداز کردینا بھی حکمت کے منافی ہے، کیونکہ ایسا رویہ عوام میں حساسیت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عدالتوں پر بھی اس حساسیت کا ادراک لازم ہے، ھٰذَا مَا عِنْدَنَا بِتَوْفِیْقِ اللّٰہِ تَعالٰی وَعَوْنِہٖ وَالْعِلْمُ الْقَطْعِیُّ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَھُوَ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

عدالت عظمیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ وطنِ عزیز پہلے ہی سیاسی انتشار اور اقتصادی بدحالی سے دوچار ہے، قوم بوجوہ منقسم ہے، اس تقسیم میں سیاسی رہنمائوں اور قائدین کی بے تدبیری کا بھی بڑا دخل ہے، بلکہ سچ یہ ہے: ہمارے ہاں سیاسی رہنما اور قائدین تو یقینا بہت ہیں، لیکن مدبّرین (Statesmen) کا فقدان ہے، جبکہ قوموں اور ملکوں کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت مدبّرین میں ہوتی ہے۔ مدبّر اُس قیادت کو کہا جاتا ہے جو کوئی بھی فیصلہ کرنے، پالیسی بنانے یا اقدام کرنے سے پہلے اُس کے نتائج، ثمرات اور عواقب (Subsequences) پر باریک بینی سے غور کرتی ہے۔ ہر فیصلے، پالیسی اور اقدام کے ممکنہ فوائد اور نقصانات پر نظر رکھتی ہے،جبکہ کوتاہ بیں (Shortsighted) قیادت اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔ پس ایسے حالات میں عدالت عظمیٰ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہر ایسے فیصلے سے اجتناب کیا جائے جو قوم کو ایک سنگین بحران، خلفشار اور انتشار میں دھکیل دے۔ عہدِ جاہلیت کا ایک عربی شاعر میدانِ جنگ میں مصروفِ پیکار اپنے گھوڑے کی تعریف میں لکھتا ہے:

مفہومی ترجمہ: ’’میرا گھوڑا (جنگ کے دوران) موقع ومحل کی مناسبت سے بیک وقت دشمن پر بڑھ چڑھ کر حملے بھی کرتا ہے اور جنگی حکمتِ عملی کے پیشِ نظر پیچھے بھی ہٹتا ہے اور جب وہ حملہ کرتا ہے تو اس قوت سے کرتا ہے کہ گویا پتھر کی مضبوط چٹان سیلاب کے زور پر بلندی سے گر گئی ہو‘‘۔ حال ہی میں عدالت عظمیٰ ایک سیاسی مقدمے میں ایک سیاسی رہنما کو اپنے حریف سیاسی رہنمائوں کے ساتھ مل بیٹھنے اور مکالمے کا مشورہ دے چکی ہے، کیونکہ سیاست دانوں کا باہم مل کر مسائل کو حل نہ کرنا اور طاقت کے مراکز کی طرف دیکھنا اُن کی کوتاہ اندیشی اور بے بصیرتی کی دلیل ہے۔ اگر آپ کا اپنا عمل یہی ہے اور آپ طاقت کے مراکز کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ سارے مسائل کے حل کی کلید اُنھی کے پاس ہے، تو ان کا اپنے آپ کو سب سے بالاتر اور سب سے بالادست سمجھنے کا جواز آپ خود پیدا کر رہے ہیں۔