کینیڈا میں بھی بھارت بے نقاب

383

کینیڈین خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کینیڈا کے انتخابات میں مداخلت کرتا ہے اس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ کینیڈین سیکرٹ انفارمیشن سروسز کے سربراہ ڈیوڈ وزنل نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ گزشتہ ۵ برس میں ساڑھے چار لاکھ بھارتیوں کو اسٹوڈنٹ ویزے جاری کیے گئے کئی خفیہ ایجنٹ طالب علموں کے بھیس میں کینیڈا میں داخل ہوئے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ ڈیوڈ وزنل نے پاکستان کے بارے میں بھی کہا ہے کہ وہ بھی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تاہم یہ بھی کہا کہ پاکستان کی مداخلت عالمی امور میں بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرنے تک محدود ہے یہ تو کینیڈا کی حکومت ہے جس کے سیکرٹ سروس سربراہ نے اس طرح حقائق بیان کیے ورنہ امریکا یا برطانیہ تو پاکستان کو بھی بھارت کے برابر لاکھڑا کرتے۔ جہاں تک بھارت کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں نیپال، بھوٹان، بنگلادیش کا بیان آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے لیکن پاکستانی حکام خواہ فوجی ہوں یا نام نہاد سویلین ان کے لیے ایک اور بہترین موقع ہے کہ بھارت کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور مہم چلاکر اس کے قدم ہر طرف روکے جائیں۔ بھارت جس تیزی سے ساری دنیا میں اپنی معیشت کو پھیلانے اور مارکیٹوں پر قبضے میں مصروف ہے اس تیزی سے پاکستان اپنا دفاع بھی نہیں کرپارہا جبکہ بہترین دفاع تو پیش قدمی ہی ہوتا ہے پاکستان کے پاس اس سے پہلے بھی بہت سے مواقع آچکے ہیں لیکن ہمارے حکمران سویلین اور فوجی کبھی ان مواقع سے فائدہ اٹھاکر بھارت کا ناطقہ بند نہیں کرسکے بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق خود دہشت گردی کرے اور خود ہی پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کرے۔ عالمی برادری میں بھی اس کے وفود تیزی سے حرکت کرتے ہیں اپنی آبادی کی بنیاد پر دنیا بھر کی مارکیٹ بن کر اپنے لیے آسان ہدف بناتا ہے کشمیر پر قابض بھارت نے حریت تحریک کو خود بھی باغی اور پھر دہشت گرد قرار دلوایا لیکن کمال یہ ہے کہ پاکستانی فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے بھی حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دلوایا اور مجاہدین کی مدد کو جرم بنادیا۔ آج تک جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کشمیر کی حمایت کے جرم میں قید ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو ہے پاکستان کے پاس بلوچستان میں اس کی دہشت گردی کے ثبوت ہیں۔ پورے ملک میں اس کے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات ہیں اگر اپنی معلومات پر کچھ نہیں کرسکتے تو اب کینیڈین سیکرٹ سروس کی رپورٹ پر ہی طوفان اٹھادیں۔ دنیا بھر میں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کریں سمجھدار لوگوں کے وفود بھیجیں بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا مجرم ثابت کریں اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوائیں۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمران ایسا کرسکتے ہیں۔ یہ تو حکومت بنتے ہی بھارت سے تجارت کی باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ کشمیریوں کا خون بھول کر اس کا سودا کرنے لگے۔ کینیڈا میں غیر ملکیوں کے لیے تعلیم اور کاروبار کے وسیع مواقع ہیں حکومت پاکستان بھارتی طلبہ کی غیر معمولی تعداد کو دیکھے اور موجودہ حالات میں کینیڈا کی حکومت سے رابطہ کرکے پاکستانی طلبہ کے لیے ویزوں کے حصول کو آسان بنانے میں مدد دے اس کے علاوہ جو پاکستانی طلبہ کینیڈا میں پڑھنا چاہتے ہیں ان کو تعلیمی وظائف بھی دے تاکہ وہ وہاں جاکر ملازمتوں کے چکر میں نہ پڑیں بلکہ ان وظائف کے عوض وہ پاکستان میں اپنی خدمات دینے کا وعدہ کریں تاکہ مستقبل میں اس نئی نسل کی علمی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ ہوسکے۔ اس میں بھی ایک خطرہ ہے کہ عام پاکستانی طلبہ کے بجائے اشرافیہ اور حکمران طبقے کو نوازنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اس سلسلے کو عوام ہی روک سکتے ہیں پارلیمان میں تو فی الحال ایسا کوئی نمائندہ موجود نہیں ہے۔ کینیڈا کے حکام سے رابطہ کرکے پاکستان کے بارے میں تبصرے بھی حذف کروائے جائیں ورنہ اس سے بھی کوئی فائدہ اٹھاسکتا ہے۔