پاکستان کی مقبوضہ وادی میں کشمیری سیاسی جماعتوں پر پابندیوں کے بھارتی فیصلے کی مذمت

395
occupied valley

اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری سیاسی جماعتوں پر پابندیوں سے متعلق بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کالعدم کشمیری جماعتوں پر سے پابندیاں اٹھانے اور محمد یاسین ملک سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے چار دھڑوں پر پابندی لگانے کے بھارتی حکام کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان محمد یاسین ملک کی زیر قیادت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی کو مزید پانچ سال تک بڑھانے کے فیصلے کی بھی مذمت کرتا ہے۔ تازہ نوٹیفیکیشن کے بعد بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 14 کشمیری سیاسی جماعتوں کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان جماعتوں کے وابستگان کو بھی ظلم و ستم کا سامنا ہے، سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ محمد یاسین ملک کے لیے سزائے موت کی درخواست کی گئی ہے جنہیں 2022 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے جابرانہ ہتھکنڈے کشمیری عوام کی ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کی خواہشات کو دبا نہیں سکتے جس کا حق انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیا گیا ہے۔