ہر دن اہم،الیکشن کا معاملہ فوری توجہ کامتقاضی ہے،چیف جسٹس

734
Every day important

اسلام آباد:  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ الیکشن کا معاملہ فوری توجہ کامتقاضی ہے، 8فروری کو انتخابات ہونے ہیں اور الیکشن کے حوالہ سے ہر دن اہم ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ8فروری کو پاکستان میں عام انتخابات ہورہے ہیں، الیکشن کے معاملہ پر وکیل نے اسلام آباد کی بجائے لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کردی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ نادرا کے تحت تاریخ پیدائش کااندراج حتمی ہوتا ہے، قانون میں حتمی تاریخ نادار ہے نہ کہ یونین کونسل کا برتھ سرٹیفیکیٹ، اگر ایک شخص بالغ ہوگیا ہے توپھر شناختی کارڈ نہیں بنواتے تویہ جرم ہے، نادرا قانون ہم استعمال نہیں کرسکتے، پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ادارے کو چلنے ہی نہیں دیتا ہے۔ قانون ایک مقصد کے لئے بنایاگیا ہے یاتوکہیں کہ نادرا قانون ختم کردیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ بیلٹ پیپرز چھپنے کے بعد کیسے الیکشن لڑنے کی اجازت دیں گے، درخواست گزار کو 20جنوری کو ہائی کورٹ کے آرڈر کی کاپی ملی اوروہ 30جنوری کو اپیل دائر کررہے ہیں۔ اس وقت درخواست دائر کرنا وقت کاضیاع ہے، بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں۔  ملک میں 8فروری کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ عدالت نے این اے 142ساہیوال، این اے 168بہاولپور اور پی پی 253اورپی پی 254بہاولپور سے چوہدری آصف علی اور محمد عدنان منظور کی جانب سے ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلیں خارج کردیں۔ 

چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور مخصوص نشستوں کے کاغذات نامزدگی کی 4کاپیاں عدالت کو فراہم کریں تاکہ فارم سمجھنے میں مدد ملے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے چوہدری آصف علی اور محمدعدنان منظور کی جانب سے این اے 142،این اے168،پی پی 253اورپی پی 254کے ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت چوہدری آصف علی کی جانب سے رضا احمد نے پیش ہوکر بتایا کہ وہ ہائی کورٹ کے وکیل ہیں انہیں کیس میںپیش ہوکردلائل دینے کی اجازت دی جائے۔ رضا احمد نے بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی ہے۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست گزار چاہتے تو بے بنیاد درخواست لاہور کی بجائے کوئٹہ جا کربھی دائر کردیتے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 8فروری کو پاکستان میں جنرل الیکشن ہورہے ہیں، کوئی سننا ہی نہیں چاہتا، آج یکم فروری ہے اور8فروری کو انتخابات ہورہے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز چھپنے کے بعد کیسے الیکشن لڑنے کی اجازت دیں گے، 20جنوری کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی مل گئی اور30جنوری کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کررہے ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے مئوکل سے دوروز قبل ہی درخواست دائر کرنے کی ہدایات ملیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مئوکل تک رسائی نہیں تھی کیا وہ یورپ گئے ہوئے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتی کس طرح کی وکالت کرتے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ اس وقت درخواست دائر کرنا وقت کاضیاع ہے، بیلٹ پیپرز چھپ چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم لکھواتے ہوئے کہا کہ نہ ہی درخواست گزاراورنہ ہی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کمرہ عدالت میںموجود ہیں۔ درخواست گزار گزار کے وکیل ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اورانہوں نے لاہور میں درخواست دائر کی ہے۔ الیکشن معاملات فوری توجہ کے متقاضی ہیں ، یہ الیکشن کا معاملہ ہے اور 8فروری کوانتخابات ہونے جارہے ہیں، الیکشن کے حوالہ سے ہردن اہم ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ ان کا اپنے مئوکل سے رابطہ نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے درخواست خارج کردی۔ جبکہ بینچ نے بہاولپور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168اورپی پی 253اورپی پی 254پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف امیدوار محمد عدنان منظور کی درخواستوں پر سماعت کی۔ امیدوار کی عمر کم تھی جس کی وجہ سے ریٹرننگ افسراور پھر الیکشن ٹربیونل اور پھر لاہور ہائی کورٹ نے کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے تھے۔